اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
شاعر: فیض احمد فیضؔ
❤️ 0 پسند ← واپس
👁 21 بار پڑھی 📅 09 Jun 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
فیض احمد فیضؔ کی یہ نظم اردو ادب کی سب سے مشہور نظموں میں سے ایک ہے۔ یہ نظم 1952 میں لکھی گئی جب فیضؔ جیل میں تھے۔
اس نظم میں فیضؔ اپنی محبوب سے کہتے ہیں کہ وہ پہلے جیسی محبت نہ مانگے۔ اس لیے نہیں کہ محبت کم ہو گئی بلکہ اس لیے کہ اب شاعر کا دل دنیا کے دکھوں سے بھر گیا ہے۔
فیضؔ نے اس نظم میں ذاتی محبت اور اجتماعی درد کو ملایا ہے۔ جب دنیا میں اتنے دکھ اور ظلم ہوں تو ذاتی خوشی نامکمل لگتی ہے۔
یہ نظم فیضؔ کی ترقی پسند سوچ کا مظہر ہے جہاں انہوں نے ذاتی محبت کو سماجی شعور سے جوڑا ہے۔
📝 الفاظ کے معنی
پہلی سی: جیسی پہلے تھی
محبوب: پیاری معشوق
محبت: پیار عشق
🏛️ پس منظر
فیض احمد فیضؔ 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو کے مشہور ترقی پسند شاعر تھے۔ یہ نظم انہوں نے 1952 میں جیل سے لکھی۔
💡 مرکزی خیال
ذاتی محبت اور اجتماعی درد ساتھ چل سکتے ہیں — جب دنیا میں ظلم ہو تو سچا محب صرف اپنی ذات میں نہیں کھو سکتا۔
✨ ادبی خصوصیات
خطاب: شاعر براہِ راست محبوب سے مخاطب ہے۔
تضاد: ذاتی محبت اور اجتماعی درد کا تضاد۔
علامتی اسلوب: فیضؔ کی خصوصیت علامتی زبان ہے۔

✍️ فیض احمد فیض — مختصر تعارف

فیض احمد فیض
📍 سیالکوٹ، پاکستان

🔵 فیض احمد فیض کی سوانح حیات
🟢 تعارف
فیض احمد فیض اردو کے عظیم شاعر، صحافی اور انقلابی مفکر تھے۔
وہ ترقی پسند تحریک کے نمایاں ستون تھے۔

📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 13 فروری 1911ء
📍 مقام: سیالکوٹ، پاکستان
والد: سلطان محمد خان

📚 تعلیم و تربیت
گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم
انگریزی اور عربی ادب میں مہارت

✍️ ادبی خدمات
📖 اہم تصانیف:
نقشِ فریادی
دستِ صبا
زنداں نامہ
دستِ ت …

مزید پڑھیں ←
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن