جمعہ، کرکٹ اور ہم
جمعہ، کرکٹ اور ہم
مالیگاؤں سے باہر، ہائی وے سے کچھ آگے میرا ایک کھیت ہے۔ عام لوگوں کے لیے وہ شاید صرف مٹی کا ایک ٹکڑا ہو، مگر ہمارے لیے وہ ہماری دوستی، ہماری جوانی اور ہماری بے فکری کی پوری دنیا تھا۔
ہر جمعہ نمازِ جمعہ ختم ہوتے ہی موبائل بجنا شروع ہو جاتے۔
“کہاں پہنچا؟”
“بس نکل رہا ہوں!”
“ابے جلدی آ، سب تیرا انتظار کر رہے ہیں!”
اور کوئی نہ کوئی لازماً وہ تاریخی جملہ بولتا:
“ذرا رکو بھائی، میں اپنی عورت کو اُس کی امّی کے گھر چھوڑ کر آتا ہوں!”
یہ سنتے ہی پورا ماحول قہقہوں سے بھر جاتا۔
“ابے! ہر جمعہ تمھاری ساس ہی کیوں یاد آتی ہے؟!”
پھر تھوڑی ہی دیر میں سب میرے گھر جمع ہونا شروع ہو جاتے۔
آقیب، اسد، سعود، مزمل، اسامہ، علی، حسنین، سفیان، عمران، موجو، اظہر، یاسر، شہباز اور شاداب…
ہر ایک اپنے ساتھ الگ شور، الگ حرکت اور الگ پاگل پن لے کر آتا تھا۔
پھر موٹر سائیکلوں کی تقسیم شروع ہوتی۔
دو دو، تین تین لوگ ایک ہی بائیک پر ایسے بیٹھتے جیسے بارڈر پار کرنے نکلے ہوں۔
اور پھر ہمارا قافلہ کھیت کی طرف روانہ ہو جاتا۔
مگر راستے میں ایک جگہ رکنا فرض تھا — آقیب کی پان کی دکان۔
وہاں پہنچتے ہی اصل میچ شروع ہوتا۔
کوئی بادشاہی پان مانگتا، کوئی ایک سو ساٹھ والا، کوئی ایک سو بیس والا۔
کوئی کہتا:
“بھائی! میرا پان ایک دم لائٹ کیمام والا لگانا!”
تو دوسرا فوراً بولتا:
“اور میرا ایک دم ہارڈ! ایسا کہ سیدھا دماغ کھل جائے!”
پھر ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچائی شروع۔
“اتنا لائٹ پان کھاتا ہے جیسے بچہ ہو!”
“اور تمھارا پان کھا لیا تو سیدھا کھیت میں گر جاؤں گا!”
آقیب پان بناتے بناتے خود ہنسنے لگتا تھا۔
پھر ہاتھوں میں پان دبائے، منہ میں خوشبو اور دل میں کرکٹ کا جنون لیے ہم سب کھیت کی طرف نکلتے۔
ہائی وے کی ہوا چہروں سے ٹکراتی، اور ایسا محسوس ہوتا جیسے پوری دنیا کی خوشی ہمیں ہی مل گئی ہو۔
کھیت پہنچتے پہنچتے دھیرے دھیرے سب جمع ہونے لگتے۔
کوئی بلا کندھے پر رکھے آتا، کوئی گیند اچھالتا ہوا، اور کوئی آتے ہی اعلان کر دیتا:
“آج اگر میں آؤٹ ہو گیا نا، تو کرکٹ چھوڑ دوں گا!”
اور وہی شخص پہلے اوور میں بولڈ ہو جاتا۔
پھر شروع ہوتا کپتان چُننے کا تاریخی ڈراما۔
“آج کپتان کون بنے گا؟”
“تم دونوں بن جاؤ!”
“نہیں بھائی! میں نہیں بنوں گا!”
“ابے ہر بار یہی بولتا ہے!”
کافی بحث، ہنسی، مذاق اور زبردستی کے بعد دو کپتان منتخب کیے جاتے۔
پھر دونوں کپتانوں کو ایک طرف بٹھا دیا جاتا، اور باقی سب دو دو کی جوڑیاں بنا کر دور چلے جاتے۔
وہاں جا کر ہر جوڑی اپنے لیے ایسے ایسے نام رکھتی کہ ہنسی سے پیٹ درد ہونے لگتا۔
“ہیڈ اور ٹیل!”
“بیٹ اور بال!”
“ہونڈا اور کار!”
پھر ایک ایک جوڑی کپتانوں کے سامنے آتی۔
“ہیڈ یا ٹیل؟”
اگر کپتان نے “ہیڈ” کہا اور اُس لڑکے کا نام “ہیڈ” نکلا، تو وہ اُس کی ٹیم میں۔
اور دوسرا سیدھا مخالف ٹیم میں۔
بعض اوقات کپتان اتنے غلط اندازے لگاتے کہ سب زمین پر بیٹھ کر ہنسنے لگتے۔
پھر آتا ٹاس کا وقت۔
اور پورا میدان ایک ہی سوال سے گونج اٹھتا:
“ارے بھائی! کوائن کون دے گا؟!”
پھر سب ایک دوسرے کی طرف دیکھتے۔
“میرے پاس نہیں ہے!”
“پچھلے جمعہ میں نے دیا تھا!”
“دے نا بے کوائن!”
آخرکار کسی کی جیب سے ایک پرانا، ٹیڑھا میڑھا سکہ نکل آتا، جیسے خزانہ مل گیا ہو۔
ٹاس جیتنے والی ٹیم فوراً غرور سے چلاتی:
“جاؤ بے… پدو!”
اور باقی سب ہنس ہنس کر دوہرے ہو جاتے۔
پھر اصل جنگ شروع ہوتی۔
ہر اپیل ایسے کی جاتی جیسے ورلڈ کپ کا فائنل ہو۔
“آؤؤؤٹ ہے!!!”
“ابے کہاں آؤٹ ہے؟!”
کوئی آسان کیچ چھوڑ دیتا تو پورا میدان اُس کے پیچھے پڑ جاتا۔
“بھائی! ہاتھ تھے یا پلاسٹک کے تھیلے؟!”
کوئی چھکا مار کر خود کو بابر اعظم سمجھنے لگتا، اور اگلی گیند پر بولڈ ہو جاتا۔
اسی شور شرابے، اپیلوں، لڑائیوں اور قہقہوں کے درمیان شام کے سات بج جاتے، اور ہم تین میچ کھیل چکے ہوتے۔
پہلا اور تیسرا میچ صرف ٹرائل ہوتا۔
اصل جنگ دوسرا میچ ہوتا — “چائے والا میچ”۔
جو ٹیم ہارتی، اُسے دونوں ٹیموں کو چائے پلانی پڑتی۔
پھر ہارنے والی ٹیم کا کپتان سب کے پیچھے پڑ جاتا:
“چلو بھائی! بیس بیس روپے نکالو!”
اور وہیں سے دوسرا کامیڈی شو شروع ہو جاتا۔
“بھائی! میں پیسے لانا بھول گیا!”
“میرے پاس صرف دس ہیں!”
اور کوئی موقع دیکھ کر خاموشی سے بھاگنے کی کوشش کرتا۔
مگر باقی سب اُسے پکڑ لیتے۔
“ابے! کہاں جا رہا ہے؟ پہلے پیسے دے!”
کافی لڑائی، منتیں، دھمکیاں اور ہنسی مذاق کے بعد آخرکار سب سے بیس بیس روپے جمع کیے جاتے۔
پھر اسٹمپ، گیند اور بلا ایک تھیلے میں ڈال کر کھیت کے جھونپڑے میں رکھ دیے جاتے، اور ہم سب ہائی وے پر موجود چائے کے ہوٹل پہنچ جاتے۔
وہاں اصل محفل جمتی تھی۔
گرم چائے، تھکے ہوئے چہرے، اور بے تحاشا ہنسی…
پھر سب مل کر کسی ایک کی “مزا” لینا شروع کر دیتے۔
کبھی اُس کی بیٹنگ کا مذاق، کبھی اُس کے چھوٹے ہوئے کیچ کا، اور کبھی اُس کی کسی حرکت کا۔
کبھی کبھی تو اتنی بے رحمی سے مذاق ہوتا کہ بیچارہ واقعی رونے کے قریب پہنچ جاتا۔
اور سب ہنس ہنس کر کہتے:
“ابے ناراض مت ہو، تو ہی تو ہماری جان ہے!”
پھر رات آہستہ آہستہ گہری ہونے لگتی۔
ہائی وے پر گاڑیوں کی روشنیاں بڑھ جاتیں، چائے کے آخری گھونٹ ختم ہوتے، اور ہم سب اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو جاتے۔
مگر سچ یہ ہے…
ہم سب کا دل اگلے جمعہ تک اُسی کھیت میں رہ جاتا تھا۔
✍️ انصاری محمد مبین محمد یاسین — مختصر تعارف
انصاری محمد مبین محمد یاسین
اسسٹنٹ پروفیسر برائے ریاضیات، چار سالہ تدریسی تجربے کے حامل ایک ممتاز ماہرِ تعلیم و محقق ہیں۔ آپ کا تخصص ریاضیاتِ محض (Pure Mathematics) میں ہے، بالخصوص الجبرۂ تجریدی (Abstract Algebra)، خطی الجبرا (Linear Algebra) اور حقیقی تجزیہ (Real Analysis) میں گہری فکری و تحقیقی دسترس رکھتے ہیں۔
آپ کا تدریسی منہج مکمل طور پر منطق (Logic) اور استدلال پر مبنی ہے، جہاں ہر تص …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!