اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسد جمعہ، 10 جولائی 2026
👁 8 ❤️ 0
ڈنکا اس کی پارسائی کا بجایا جائے گا
پھر کسی قاتل کو مسند پر بٹھایا جائے گا
پہلے اک معصوم کا گھر پھونک ڈالا جائے گا
پھر کسی معصوم کو سولی پہ لایا جائے گا
جھوٹ کی تشہیر کی جائے گی پہلے دھوم سے
پھر صداقت کے چراغوں کو بجھایا جائے گا
پہلے تو مل کر کریں گے سب حمایت ظلم کی
پھر کسی جگنو کو سورج سے ڈرایا جائے گا
راستے دشوار کر کے منزلِ مقصود کے
پھر کسی اک آبلہ پا کو بلایا جائے گا
خیر مقدم ہوگا پہلے پھول سے دیوانے کا
پھر اسے کانٹوں کے بستر پر سلایا جائے گا
📖 خلاصہ

یہ غزل ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے جہاں اقدار الٹ چکی ہیں۔ مجرموں کو عزت دی جاتی ہے جبکہ بے گناہوں کو سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ جھوٹ کو عام کیا جاتا ہے، سچ کو دبایا جاتا ہے، ظلم…

📚 ادبی جائزہ

یہ غزل جدید اردو شاعری کی احتجاجی روایت کی ایک مؤثر مثال ہے۔ شاعر نے معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی زوال کو نہایت سادہ مگر گہرے اسلوب میں پیش کیا ہے۔ ہر شع…

یہ غزل جدید اردو شاعری کی احتجاجی روایت کی ایک مؤثر مثال ہے۔ شاعر نے معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی زوال کو نہایت سادہ مگر گہرے اسلوب میں پیش کیا ہے۔ ہر شعر میں ایک تلخ حقیقت کو علامتی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ "قاتل"، "معصوم"، "چراغ"، "جگنو"، "سورج"، "پھول" اور "کانٹے" جیسی علامتیں غزل کے معنوی حسن کو بڑھاتی ہیں۔
غزل کی زبان عام فہم، رواں اور پراثر ہے۔ ردیف "جایا جائے گا" مستقبل کے اندیشوں کو نمایاں کرتی ہے، جبکہ قافیہ غزل میں موسیقیت اور تسلسل پیدا کرتا ہے۔ شاعر نے تضاد (Contrast) کی صنعت سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے؛ مثلاً قاتل کو مسند اور معصوم کو سولی، جھوٹ کی تشہیر اور سچ کے چراغ بجھانا، پھول اور کانٹے وغیرہ۔
غزل اپنے علامتی اسلوب، سماجی شعور اور فکری گہرائی کی وجہ سے قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور اسے محض جذباتی اظہار کے بجائے ایک فکری احتجاج کی صورت عطا کرتی ہے۔

🖋️ تنقیدی جائزہ

تنقیدی اعتبار سے یہ غزل موجودہ سماجی اور سیاسی حالات پر ایک مضبوط احتجاج ہے۔ شاعر نے کسی خاص شخصیت یا واقعے کا ذکر کیے بغیر ایسے عمومی حالات بیان کیے …

تنقیدی اعتبار سے یہ غزل موجودہ سماجی اور سیاسی حالات پر ایک مضبوط احتجاج ہے۔ شاعر نے کسی خاص شخصیت یا واقعے کا ذکر کیے بغیر ایسے عمومی حالات بیان کیے ہیں جو ہر دور میں اپنی معنویت رکھتے ہیں۔ یہی آفاقیت غزل کی بڑی خوبی ہے۔
البتہ غزل کا لہجہ ابتدا سے انتہا تک شدید مایوسی اور تلخی لیے ہوئے ہے۔ اگر کسی شعر میں امید یا مزاحمت کا پہلو بھی شامل ہوتا تو فکری توازن مزید نمایاں ہو سکتا تھا۔ اس کے باوجود غزل کی فنی ساخت، علامتی اظہار، فکری یکسانیت اور معاشرتی شعور اسے ایک کامیاب احتجاجی غزل کے طور پر ممتاز کرتے ہیں۔

← پچھلا اگلا →

✍️ عبدالدیان اسد — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

نام؛ عبدالدیان عبدالرحمن
قلمی نام؛. عبدالدیان اسد
معروف نام؛. عبدالدیان رحمانی
پیشہ؛ پارچہ بافی، اناؤنسر، نظامت
تاریخ پیدائش؛ 2مئی 1970
مسکن؛ گھر نمبر 188 گلی نمبر 2 نجمہ آباد
شہر؛ مالیگاؤں ناسک مہاراشٹر ہندوستان
مشغلہ؛. شاعری، مطالعہ، خدمت خلق
تعلیم؛ دسویں اردو

غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

عبدالدیان اسد کی مزید
مثلِ منصور زمانے سے وفا مانگے گا عشق، بس دار پہ چڑھنے کی ادا مانگے گا آہ سے اس کی حکومت تری مٹ جائے ...
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
اپنی بربادی کی معذور کہانی بھر کے پھونک مارے گا چلم باز جوانی بھر کے روز جھرنے میں منگائے گی جٹھانی ...
کیا خبر حریفِ دین کو کیا ہے احترام یا حسین عرشِ پاک پر بھی ہے لکھا آپ کا مقام یا حسین لاج رکھ لی رکن...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن