اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل ⭐ نمایاں
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ ہفتہ، 13 جون 2026
👁 348 ❤️ 1
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی, نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفامِ مشک بو کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
📖 خلاصہ

مرزا غالب کی یہ مشہور غزل عشق، انسانی جذبات، خود شناسی اور زندگی کی حقیقتوں کا آئینہ دار ہے۔ شاعر محبوب کے اندازِ گفتگو، اس کے رویّوں اور اپنے دل کی کیفیات کو سوالیہ انداز میں بیان کرتا ہے۔ غزل کے مخت…

📚 ادبی جائزہ

یہ غزل مرزا غالب کی فکری عظمت، لسانی ندرت اور شعری انفرادیت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ غزل کے اشعار میں عشق، فلسفۂ حیات، انسانی احساسات، خود آگہی اور تہذیبی ش…

🖋️ تنقیدی جائزہ

تنقیدی اعتبار سے یہ غزل غالب کی اس شعری جہت کی نمائندہ ہے جس میں معنی کی تہہ داری، رمزیت اور فکری پیچیدگی نمایاں ہے۔ غالب روایتی عاشقانہ فضا سے آگے بڑ…

← پچھلا اگلا →

✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — مختصر تعارف

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
📍 آگرہ، ہندوستان

مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ کی مزید
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے تکلف بر طرف ہے جاں ست...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟ کہتے ہیں جب رہی نہ مج...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں غالبؔ م...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن