نظم
دانش فراق
اتوار، 14 جون 2026
👁 535
❤️ 1
میں نے ایک دن
اپنے اندر اترنے کی کوشش کی،
جیسے کوئی مسافر صدیوں سے بند پڑے کسی زیرِ زمین شہر کا دروازہ کھولتا ہے۔
اندر بہت خاموشی تھی۔
اتنی خاموشی کہ اپنے ہی خیالوں کی چاپ اجنبی محسوس ہوتی تھی۔
وہاں خواہشوں کے شکستہ ستون تھے، یادوں کی نیم تاریک راہداریاں، اور چند سوال
جو عمر بھر جوابوں کا لباس پہننے سے انکار کرتے رہے تھے۔
میں چلتا رہا۔
یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید آخر میں کوئی یقین میرا منتظر ہوگا۔
مگر راستے کے اختتام پر
مجھے ایک آئینہ ملا۔
میں نے اس میں دیکھا،
تو اپنا چہرہ نہیں، اپنی تمام نامکملیاں دیکھیں۔
وہ خواب جو حقیقت نہ بن سکے، وہ لفظ جو ہونٹوں تک نہ آ سکے، وہ محبتیں جو اظہار سے پہلے ہی وقت کے ملبے تلے دب گئیں۔
تب معلوم ہوا
انسان اپنی کامیابیوں سے نہیں بنتا،
وہ ان چیزوں سے بنتا ہے جو اس سے چھن جاتی ہیں
اور پھر بھی اس کے اندر زندہ رہتی ہیں۔
📖 خلاصہ
"یادوں کے کھنڈرات" خود شناسی، یادوں اور انسانی وجود کی گہرائیوں پر مبنی ایک فکری نظم ہے۔ شاعر اپنے باطن میں سفر کرتے ہوئے ان خواہشات، خوابوں اور محبتوں کا سامنا کرتا ہے جو مکمل نہ ہو سکیں۔ آ…
#سید دانش نقوی
#یادوں کے کھنڈرات
#جدید نظم
#اردو ادب
#خود شناسی
#فلسفیانہ شاعری
#وجودی فکر
#یادیں
#ادبی تنقید
#نظم کی تشریح
✍️ سید دانش نقوی — مختصر تعارف
📍 ڈسکہ
شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
دانش فراق کی مزید
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں
تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں
جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ...
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا
آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا
دل گرفتہ فضا رہی ہے آج
...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی
عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی
نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زم...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!