نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 9
❤️ 0
لطف ہمسايگي شمس و قمر کو چھوڑوں
اور اس خدمت پيغام سحر کو چھوڑوں
ميرے حق ميں تو نہيں تاروں کي بستي اچھي
اس بلندي سے زميں والوں کي پستي اچھي
آسماں کيا ، عدم آباد وطن ہے ميرا
صبح کا دامن صد چاک کفن ہے ميرا
ميري قسمت ميں ہے ہر روز کا مرنا جينا
ساقي موت کے ہاتھوں سے صبوحي پينا
نہ يہ خدمت، نہ يہ عزت، نہ يہ رفعت اچھي
اس گھڑي بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھي
ميري قدرت ميں جو ہوتا، تو نہ اختر بنتا
قعر دريا ميں چمکتا ہوا گوہر بنتا
واں بھي موجوں کي کشاکش سے جو دل گھبراتا
چھوڑ کر بحر کہيں زيب گلو ہو جاتا
ہے چمکنے ميں مزا حسن کا زيور بن کر
زينت تاج سر بانوئے قيصر بن کر
ايک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصيبا جاگا
خاتم دست سليماں کا نگيں بن کے رہا
ايسي چنروں کا مگر دہر ميں ہے کام شکست
ہے گہر ہائے گراں مايہ کا انجام شکست
زندگي وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل
کيا وہ جينا ہے کہ ہو جس ميں تقاضائے اجل
ہے يہ انجام اگر زينت عالم ہو کر
کيوں نہ گر جائو ں کسي پھول پہ شبنم ہو کر!
کسي پيشاني کے افشاں کے ستاروں ميں رہوں
کس مظلوم کي آہوں کے شراروں ميں رہوں
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جائوں ميں
کيوں نہ اس بيوي کي آنکھوں سے ٹپک جائوں ميں
ق
جس کا شوہر ہو رواں، ہو کے زرہ ميں مستور
سوئے ميدان وغا ، حب وطن سے مجبور
ياس و اميد کا نظارہ جو دکھلاتي ہو
جس کي خاموشي سے تقرير بھي شرماتي ہو
جس کو شوہر کي رضا تاب شکيبائي دے
اور نگاہوں کو حيا طاقت گويائي دے
زرد ، رخصت کي گھڑي ، عارض گلگوں ہو جائے
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے
لاکھ وہ ضبط کرے پر ميں ٹپک ہي جائوں
ساغر ديدئہ پرنم سے چھلک ہي جائوں
خاک ميں مل کے حيات ابدي پا جائوں
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جائوں
📖 خلاصہ
یہ نظم نئی روشنی، امید اور روشن مستقبل کی نوید دیتی ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!