نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 5
❤️ 0
چشتي نے جس زميں ميں پيغام حق سنايا
نانک نے جس چمن ميں وحدت کا گيت گايا
تاتاريوں نے جس کو اپنا وطن بنايا
جس نے حجازيوں سے دشت عرب چھڑايا
ميرا وطن وہي ہے ، ميرا وطن وہي ہے
يونانيوں کو جس نے حيران کر ديا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر ديا تھا
مٹي کو جس کي حق نے زر کا اثر ديا تھا
ترکوں کا جس نے دامن ہيروں سے بھر ديا تھا
ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کي لے سني تھي دنيا نے جس مکاں سے
مير عرب کو آئي ٹھنڈي ہوا جہاں سے
ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے
بندے کليم جس کے ، پربت جہاں کے سينا
نوح نبي کا آ کر ٹھہرا جہاں سفينا
رفعت ہے جس زميں کي بام فلک کا زينا
جنت کي زندگي ہے جس کي فضا ميں جينا
ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے
📖 خلاصہ
اس نظم میں بچوں کو وطن سے محبت اور قومی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!