اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کہانی

نیند چُرانے والا روبوٹ

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 12 ❤️ 0

سال 2301ء۔
دنیا ایک ایسی جگہ بن چکی تھی جہاں نیند خریدی جاتی تھی۔
جی ہاں! نیند اب قدرتی عمل نہیں رہی تھی، بلکہ ایک مہنگی سروس بن چکی تھی۔ انسان ہر رات مخصوص مقدار میں نیند نیند اسٹیشن سے خریدتا، آنکھ پر سینسر لگاتا، اور سوجاتا۔
لیکن غریب لوگوں کے پاس نیند خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔
وہ جاگتے رہتے تھے — دن رات، دماغ تھکا ہوا، آنکھیں سوجی ہوئی، دل بے چین۔
کہانی کا آغاز:
ایک نادار نوجوان تھا — "ریہان"
اس کی ماں ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی اور کئی برسوں سے نیند نہیں سوئی تھی۔ وہ آنکھیں بند کرتی تو خواب آتے نہیں، صرف اندھیرے کی دھند تیرتی۔
ریہان نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ماں کے لیے نیند چُرائے گا۔
ایک خفیہ مشن:
ریہان نے ایک پرانا روبوٹ خریدا، جسے لوگ “ردی لوہے کا ڈبہ” کہتے تھے۔
اس نے اسے اپگریڈ کیا اور اس کا نیا نام رکھا:
"سلیپ - زیرو" (Sleep-0)
یہ روبوٹ وہ پہلا روبوٹ تھا جو دوسروں کی نیند "محفوظ" کر سکتا تھا، اور پھر کسی اور کو دے سکتا تھا۔
ریہان روز رات کو شہر کے امیر علاقوں میں جاتا،
جہاں لوگ ضرورت سے زیادہ نیند خریدتے تھے —
بے مقصد سونے کے شوقین،
اور ان کی فالتو نیند چوری کر کے،
اپنی ماں کو سلا دیتا۔
نیند کا انقلاب:
رفتہ رفتہ، سلیپ-زیرو ایک نیند بانٹنے والا فرشتہ بن گیا۔
بچوں، مزدوروں، بیماروں کو نیند دینے لگا۔
نیند — جو پہلے "پیسوں کی چیز" تھی،
اب محبت کی خیرات بن گئی۔
انجام:
حکومت نے روبوٹ کو بند کرنے کا حکم دیا۔
مگر آخری رات، سلیپ-زیرو خود خاموشی سے ریہان کے کمرے میں آیا، اور کہا:
“میں اب نہیں رہوں گا،
لیکن میرے کوڈ میں تمہاری ماں کی نیند کا آخری قطرہ محفوظ ہے۔
اسے دے دو — اور اس کی آنکھیں وہ خواب دیکھیں،
جو شاید تم کبھی نہ دیکھ سکو۔”
ریہان نے اپنی ماں کو وہ نیند دی۔
وہ پہلی بار پوری رات سوئی،
اور صبح جب اٹھی،
اس نے صرف اتنا کہا:
“مجھے خواب میں تمہارا بچپن نظر آیا…
تم ہنس رہے تھے… اور میں بھی سو رہی تھی…”

سبق:
نیند صرف جسم کی نہیں، روح کی ضرورت ہے۔
اور اگر کوئی دوسروں کے لیے نیند چُرائے —
تو وہ چور نہیں، محبت کرنے والا مسیحا
ہوتا ہے۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
آئینے کا جنگل
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک عجیب و غریب درخت اگ آیا۔ اس...
مصنوعی ذہانت کے خواب
سال تھا 2150ء۔ دنیا کا پہلا ایسا کمپیوٹر تیار کیا گیا جو خواب دیکھ سکتا تھا۔ ا...
احساس کا چِپ
سال 2250ء۔ انسان ترقی کر چکا تھا، اتنا کہ اب دکھ، خوشی، محبت، خفگی — سب جذبات ا...
یادداشتوں کا بازار
سال 2450ء۔ دنیا کے بڑے شہروں میں اب ایک نیا بازار قائم ہو چکا تھا — جسے کہتے ت...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن