اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 11 ❤️ 0
جگنو کي روشني ہے کاشانہء چمن ميں
يا شمع جل رہي ہے پھولوں کي انجمن ميں
آيا ہے آسماں سے اڑ کر کوئي ستارہ
يا جان پڑ گئي ہے مہتاب کي کرن ميں
يا شب کي سلطنت ميں دن کا سفير آيا
غربت ميں آ کے چمکا، گمنام تھا وطن ميں
تکمہ کوئي گرا ہے مہتاب کي قبا کا
ذرہ ہے يا نماياں سورج کے پيرہن ميں
حسن قديم کي يہ پوشيدہ اک جھلک تھي
لے آئي جس کو قدرت خلوت سے انجمن ميں
چھوٹے سے چاند ميں ہے ظلمت بھي روشني بھي
نکلا کبھي گہن سے، آيا کبھي گہن ميں
پروانہ اک پتنگا، جگنو بھي اک پتنگا
وہ روشني کا طالب، يہ روشني سراپا
ہر چيز کو جہاں ميں قدرت نے دلبري دي
پروانے کو تپش دي، جگنو کو روشني دي
رنگيں نوا بنايا مرغان بے زباں کو
گل کو زبان دے کر تعليم خامشي دي
نظارئہ شفق کي خوبي زوال ميں تھي
چمکا کے اس پري کو تھوڑي سي زندگي دي
رنگيں کيا سحر کو، بانکي دلھن کي صورت
پہنا کے لال جوڑا شبنم کي آرسي دي
سايہ ديا شجر کو، پرواز دي ہوا کو
پاني کو دي رواني، موجوں کو بے کلي دي
يہ امتياز ليکن اک بات ہے ہماري
جگنو کا دن وہي ہے جو رات ہے ہماري
حسن ازل کي پيدا ہر چيز ميں جھلک ہے
انساں ميں وہ سخن ہے، غنچے ميں وہ چٹک ہے
يہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گويا
واں چاندني ہے جو کچھ، ياں درد کي کسک ہے
انداز گفتگو نے دھوکے ديے ہيں ورنہ
نغمہ ہے بوئے بلبل، بو پھول کي چہک ہے
کثرت ميں ہو گيا ہے وحدت کا راز مخفي
جگنو ميں جو چمک ہے وہ پھول ميں مہک ہے
يہ اختلاف پھر کيوں ہنگاموں کا محل ہو
ہر شے ميں جبکہ پنہاں خاموشي ازل ہو
📖 خلاصہ

اقبال نے اس نظم میں جگنو کو خود انحصاری اور روشنی کی علامت بنایا ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن