رباعی
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
ہفتہ، 6 جون 2026
👁 13
❤️ 1
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا
اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا
پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
📖 خلاصہ
مرزا غالب اس رباعی میں عاشق کی اس نفسیاتی کیفیت کو بیان کرتے ہیں جس میں محبوب سے شکوے تو بہت ہوتے ہیں، لیکن اس کے سامنے آتے ہی زبان خاموش ہو جاتی ہے اور اظہارِ شکایت ممکن نہیں رہتا۔
#Tags: مرزا غالب
#غالب کی رباعیات
#رباعی کی تشریح
#اردو شاعری
#تشریح اشعار
#غالب شاعری
#کلاسیکی اردو ادب
#الفاظ و معانی
#شعر کی تشریح
#Urdu Poetry
#Mirza Ghalib
#Rubaiyat Ghalib
✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — مختصر تعارف
📍 آگرہ، ہندوستان
مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ کی مزید
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
تکلف بر طرف ہے جاں ست...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
کہتے ہیں جب رہی نہ مج...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا
اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا
پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
غالبؔ م...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!