زعفرانی، سفید، ہرا
میں نے جب پہلی بار
اپنے اسکول کی چھت پر لہراتا ہوا ترنگا دیکھا تھا
تو مجھے صرف رنگ نظر نہیں آئے تھے
مجھے اپنا گھر دکھائی دیا تھا…
اپنی گلی، اپنی ماں کی دعا،
ابو کے پسینے کی خوشبو،
عید کی سویاں، دیوالی کے چراغ،
ہولی کے رنگ،
اور محرم کی سیاہ راتوں میں
پانی بانٹتے ہوئے وہ ہندو لڑکے بھی
جو حسینؑ کا نام ادب سے لیتے تھے۔
مجھے تب نہیں معلوم تھا
کہ ایک دن
انہی رنگوں کے بیچ
نفرت کے سائے اگ آئیں گے۔
زعفرانی…
جو کبھی قربانی اور روشنی کی علامت تھا
اب بعض آنکھوں میں
دوسروں کو جلانے کی آگ کیوں بن گیا ہے؟
سفید…
جو امن کا راستہ تھا
وہ اتنا خاموش کیوں ہے؟
اتنا خاموش
کہ چیختی ہوئی سچائیاں بھی
اس کے دامن میں دم توڑ دیتی ہیں۔
اور ہرا…
وہ رنگ
جسے میں نے ہمیشہ کھیتوں، درختوں
اور اپنے وطن کی مٹی کی نمی میں دیکھا تھا
آج بعض لوگ اسے
صرف میرے نام سے کیوں جوڑ دیتے ہیں؟
کیوں میرے وطن سے محبت پر
میرے مذہب کا سوال کھڑا کیا جاتا ہے؟
میں ایک ہندوستانی مسلمان ہوں۔
میرے دادا کی قبریں اسی زمین میں ہیں،
میرے بچپن کی اذانیں
اسی فضا میں گونجی ہیں،
میں نے اسی مٹی پر چلنا سیکھا،
اسی پانی سے وضو کیا،
اسی ہوا میں خواب بوئے۔
پھر کیوں
جب میں “ہندوستان زندہ باد” کہتا ہوں
تو کچھ نگاہیں
میرے لہجے میں وفاداری ڈھونڈنے لگتی ہیں؟
میرے دل میں
کوئی دوسرا ملک نہیں دھڑکتا۔
یہیں کی بارشیں میری شاعری ہیں،
یہیں کی گرد میری پہچان،
یہیں کے سپاہی میری دعاؤں میں شامل،
یہیں کے مزدور میرے بھائی،
یہیں کی عورتیں میری ماؤں جیسی،
یہیں کے بچے میری امید۔
مگر افسوس…
اب فضا میں محبت کم
اور شناختوں کا شور زیادہ ہے۔
لوگ نام پوچھتے ہیں
پھر دلوں کے دروازے کھولتے ہیں۔
مسجد کے مینار
اور مندر کے شکھر
دونوں ایک ہی آسمان کے نیچے کھڑے ہیں
مگر زمین پر چلنے والے انسان
آپس میں دور ہوتے جا رہے ہیں۔
مجھے ڈر لگتا ہے…
اس دن سے
جب ترنگا صرف ایک جھنڈا رہ جائے گا
اور اس کے رنگ
دلوں سے نکل جائیں گے۔
میں چاہتا ہوں
زعفرانی پھر سے ایثار بنے،
سفید پھر سے سچ بولے،
ہرا پھر سے زندگی کی خوشبو دے۔
میں چاہتا ہوں
کہ جب کوئی بچہ
اپنی ننھی انگلیوں سے
ترنگا بنائے
تو اسے مذہب نہ سکھایا جائے،
صرف محبت سکھائی جائے۔
کیونکہ وطن
صرف سرحدوں کا نام نہیں ہوتا،
وطن وہ احساس ہے
جہاں انسان
خوف کے بغیر
اپنا نام لے سکے۔
اور میں…
آج بھی
اسی ہندوستان سے محبت کرتا ہوں
جو گنگا کی طرح وسیع تھا،
جو غالبؔ کی غزل بھی تھا
اور کبیر کا دوہا بھی،
جو عبد الکلام کا خواب تھا
اور بھگت سنگھ کی قربانی بھی۔
میرا دل آج بھی
ترنگے کے تینوں رنگوں کے ساتھ دھڑکتا ہے—
زعفرانی…
سفید…
ہرا…
بس دعا یہ ہے
کہ ان رنگوں کے بیچ
نفرت کا کوئی چوتھا رنگ
پیدا نہ ہو جائے
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!