اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
اُوَیسؔ احمد ہفتہ، 6 جون 2026
👁 16 ❤️ 0
جنوں کی ابتدا تو ہے جنوں کی انتہا نہیں
مرض یہ لاعلاج ہے ،جنون کی دوا نہیں
سکوت کی ہے یہ سزا مگر تجھے پتا نہیں
سکوت اپنا توڑ، آ! ابھی بھی کچھ ہوا نہیں
تسلیاں، یہ تھپکیاں ہمیں تو یوں نہ دو میاں
مقامِ انتقام ہے یہ چشم پوشی کا نہیں
ہےظلم برپا ہر طرف  یہ تیری اپنی  قوم پر
وہ آہ و نالے شور و غل کہ تو نے کچھ سنا نہیں
جو ظالموں کےظلم سے تڑپ تڑپ کے رہ گئیں
وہ بستیاں ، وہ بے خطا، کہیں بھی کچھ بچا نہیں
مزاحمت میں عزتیں ہیں رفعتیں بلندیاں
فرار کی نہ راہ لو فرار میں شفا نہیں
📖 خلاصہ

"جنوں کی ابتدا تو ہے جنوں کی انتہا نہیں" اویس کی ایک فکر انگیز اور مزاحمتی نظم ہے جس میں ظلم، جبر، خاموشی کے نقصانات اور حق کے لیے جدوجہد کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ شاعر قوم کو بیدار ہونے…

← پچھلا اگلا →
اُوَیسؔ احمد کی مزید
مہ کو تابندگی بخشے جو سیہ راتوں میں وہی قادر وہی مالک ہے سبھی ذاتوں میں اس کی تخلیق کے ہے رنگ ن...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن