اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
انصاری عمران احمد عبداللہ جمعہ، 22 مئی 2026
👁 17 ❤️ 1
زیر ہو کر تو جب زبر ہوگا
 تب تری باتوں میں اثر ہوگا 
مجھ  نکمّے کو بادشاہ کرے
کوئی ایسا بھی راہبر ہوگا
کس کو معلوم تھا ترا دیدار
جب بھی ہو گا تو مختصر ہوگا
آنکھ کھولوں تو سامنے تیرا
آسرا دینے والا در ہوگا
نوچتا ہوگا زخم کو کوئی
کوئی صدمے میں رات بھر ہوگا
ساری دنیا کی ہے خبر اسکو
اور مجھ سے بے خبر ہوگا !
نقطہ چیں دیکھ کر غزل میری
لب پہ تیرے اگر مگر ہوگا
📖 خلاصہ

یہ خوبصورت غزل عمران طالب کی فکری، رومانوی اور جذباتی شاعری کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاعر نے اس غزل میں عشق، امید، بے خبری، درد اور انسانی احساسات کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔ پہلے شعر م…

← پچھلا اگلا →

✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — مختصر تعارف

انصاری عمران احمد عبداللہ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

انصاری عمران احمد عبداللہ کی مزید
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واس...
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واس...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا ...
تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں میری ہو جاتی ہے کسر آنکھیں راہ تکتی ہے میری تر آنکھیں موندھ لیتا ہے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن