اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
انصاری عمران احمد عبداللہ جمعہ، 22 مئی 2026
👁 16 ❤️ 0
ایسا ویسا لگتا ہوں !
یعنی کیسا لگتا ہوں؟
خوش ہوں لیکن اندر سے
روٹھا روٹھا لگتا ہوں
من کے آئینے میں مَیں
سہما سہما لگتا ہوں
سب ہی کہتے ہیں مجھ سے
تیرے جیسا لگتا ہوں
جتنا گہرا دریا ہے
اتنا گہرا لگتا ہوں ؟
کیوں میں بدلو خود کو اب
اس کو اچھا لگتا ہوں
وہ جو آئینے میں ہے
کیا میں ویسا لگتا ہوں
📖 خلاصہ

یہ خوبصورت اور سادہ اسلوب کی نظم عمران طالب کی ایک فکری اور جذباتی تخلیق ہے جس میں شاعر نے اپنی داخلی کیفیت، شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور خود شناسی کے احساسات کو نہایت نرم اور دلنشیں انداز میں بیان کیا ہ…

← پچھلا اگلا →

✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — مختصر تعارف

انصاری عمران احمد عبداللہ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

انصاری عمران احمد عبداللہ کی مزید
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واس...
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واس...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا ...
تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں میری ہو جاتی ہے کسر آنکھیں راہ تکتی ہے میری تر آنکھیں موندھ لیتا ہے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن