اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانہ

وقت کی پکار | وقت کی قدر، اتحاد اور تبدیلی پر سبق آموز اردو کہانی | قلمکار عبدالدیان اسدؔ

وقت کی پکار | وقت کی قدر، اتحاد اور تبدیلی پر سبق آموز اردو کہانی | قلمکار عبدالدیان اسدؔ
عبدالدیان اسد
عبدالدیان اسد جمعہ، 10 جولائی 2026
👁 8 ❤️ 0

وقت کی پکار

گاؤں کے پرانے چوک میں ایک سوکھا ہوا برگد کھڑا تھا۔ بزرگ کہتے تھے کہ اس درخت نے کئی نسلوں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔ اسی برگد کے سائے میں بیٹھ کر لوگ اپنے دکھ سکھ بانٹتے، فیصلے کرتے اور مستقبل کے خواب بنتے تھے۔ مگر اب وہاں خاموشی تھی۔ ہر شخص اپنے موبائل کی دنیا میں گم تھا۔ چوک آباد تھا، مگر دل ویران تھے۔

انہی دنوں شہر سے تعلیم مکمل کرکے ایک نوجوان، احسن، اپنے گاؤں واپس آیا۔ اس نے دیکھا کہ گاؤں میں پانی کی قلت ہے، نوجوان بے روزگار ہیں، بچے تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے ہیں۔ ہر شخص شکایت کرتا تھا، مگر کوئی پہلا قدم اٹھانے کو تیار نہ تھا۔

ایک شام احسن برگد کے نیچے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ ایک ضعیف شخص اس کے پاس آیا۔ اس نے کہا، "بیٹا! وقت ہمیشہ آواز دیتا ہے، مگر کامیاب وہی ہوتے ہیں جو اس آواز کو سن لیتے ہیں۔"

یہ الفاظ احسن کے دل میں اتر گئے۔ اگلے ہی دن اس نے چند نوجوانوں کو جمع کیا۔ ابتدا میں صرف چار لوگ آئے۔ کسی نے مذاق اڑایا، کسی نے کہا، "اس سے کیا ہوگا؟" مگر احسن نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے گاؤں میں صفائی مہم شروع کی، بچوں کے لیے شام کی مفت کلاسیں لگائیں اور پانی بچانے کے لیے آگاہی مہم چلائی۔

چند ہفتوں بعد وہ چار نوجوان دس بن گئے، پھر بیس، پھر پورا گاؤں اس کارواں کا حصہ بننے لگا۔ جن لوگوں نے پہلے مخالفت کی تھی، وہ بھی ساتھ کھڑے نظر آئے۔ گاؤں کے کھیت پھر سے سرسبز ہونے لگے، بچے کتابوں کی طرف لوٹ آئے اور چوک میں پھر سے زندگی کی رونقیں بحال ہوگئیں۔

ایک دن وہی ضعیف شخص دوبارہ احسن کے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے بولا، "دیکھا بیٹا! وقت کی پکار صرف سننے کے لیے نہیں ہوتی، اس پر عمل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔"

احسن نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اصل تبدیلی کسی حکومت یا معجزے سے نہیں آتی، بلکہ ایک بیدار دل، ایک مضبوط ارادے اور ایک سچے قدم سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ایک شخص ہمت کرے تو پوری قوم کی تقدیر بدلنے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

برسوں بعد جب لوگ اس گاؤں کی مثال دیتے تو کہتے، "یہ وہ بستی ہے جس نے وقت کی پکار پر لبیک کہا تھا۔"

سبق: وقت کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جو قومیں وقت کی آواز سن کر علم، محنت، اتحاد اور دیانت کو اپنا شعار بناتی ہیں، وہی ترقی کرتی ہیں، جبکہ غفلت کرنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

📖 خلاصہ

وقت کی پکار ایک سبق آموز اردو کہانی ہے جس میں احسن نامی نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے گاؤں واپس آتا ہے اور وہاں پانی کی کمی، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور سماجی بے حسی جیسے مسائل کا مشاہدہ کرتا…

✍️ عبدالدیان اسد — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

نام؛ عبدالدیان عبدالرحمن
قلمی نام؛. عبدالدیان اسد
معروف نام؛. عبدالدیان رحمانی
پیشہ؛ پارچہ بافی، اناؤنسر، نظامت
تاریخ پیدائش؛ 2مئی 1970
مسکن؛ گھر نمبر 188 گلی نمبر 2 نجمہ آباد
شہر؛ مالیگاؤں ناسک مہاراشٹر ہندوستان
مشغلہ؛. شاعری، مطالعہ، خدمت خلق
تعلیم؛ دسویں اردو

مزید متعلقہ نثر
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
نئے لہجے کی دستک
2 دسمبر 2022 جمعہ کا دن تھا ہر طرف خاموشی تھی ہر کوئی اپنے ہی خیالوں میں گم تھا ...
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خرا...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن