اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 22 مئی 2026
👁 9 ❤️ 1
اک شخص اپنے آپ میں بوجھل پتا بھی ہے
ہوتا ہے تم کو دیکھ کے پاگل پتا بھی ہے
ابرِ گھٹا کی مثل تھا کاجل پتا بھی ہے
ٹوٹا تھا آنسوؤں کا، وہ، بادل پتا بھی ہے
ہوتا نہیں ہے عارضِ تاباں نگاہ سے
کوشش کے باوجود بھی اوجھل پتا بھی ہے
مرہم لگا رہے ہو بڑے شوق سے مگر
دل کن عنایتوں سے ہے گھائل پتا بھی ہے
کہنے دو بزمِ یار میں دوچار لفظ اور
مدت سے بے زباں تھا یہ پاگل پتا بھی ہے
مانا کے تم نے پایا ہے عطار کا لقب
چمپا چمیلی، موگرا صندل پتا بھی ہے
رکھّا تھا تیرے پیار کو جس میں سنبھال کر
کانٹوں سے کھیچ گیا ہے وہ مخمل پتا بھی ہے
اس دورِ بے وفا میں جسے ہم وفا کہیں
رہتا ہے اس کی کھوج میں گوگل پتا بھی ہے
📖 خلاصہ

یہ غزل ہاشم انور ہاشم کی ایک خوبصورت اور فکر انگیز تخلیق ہے جس میں عشق، درد، یاد، بے وفائی اور انسانی جذبات کو نہایت دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کی شخصیت، اس کی اداؤں اور جدائی کے اثرات…

← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن