اسٹڈی روم سے اولڈ ایج ہوم تک | والدین کی تنہائی، اولاد کی بے حسی اور جدید معاشرے کا المیہ
ایک تہذیب کی خاموش شکست
رات کے دس بج رہے تھے۔
گھر کے ڈرائنگ روم میں مہمانوں کی ہنسی گونج رہی تھی۔ باورچی خانے سے مصالحوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ ٹی وی پر کوئی پروگرام چل رہا تھا۔ گھر زندہ تھا، آباد تھا، روشن تھا۔
مگر اسی گھر کے ایک کونے میں ایک کمرہ ایسا بھی تھا جہاں خاموشی رہتی تھی۔
دروازے پر ایک تختی لگی تھی:
"اسٹڈی روم"
اندر بارہ سال کا احمد اپنی میز پر جھکا بیٹھا تھا۔ سامنے کتابیں کھلی تھیں۔ ریاضی کے سوال، سائنس کے فارمولے، انگریزی کے اسباق۔
ٹیبل لیمپ کی زرد روشنی میں اس کا سایہ دیوار پر لرز رہا تھا۔
وہ چند لمحوں کے لیے کتاب سے نظریں ہٹا کر دروازے کو دیکھتا ہے۔
باہر سے قہقہوں کی آواز آ رہی ہے۔
اسے لگتا ہے شاید امی آئیں گی۔
شاید اس کے بالوں میں ہاتھ پھیریں گی۔
شاید پوچھیں گی:
"بیٹا! تھک تو نہیں گئے؟"
مگر کوئی نہیں آتا۔
دروازہ بند رہتا ہے۔
وہ واپس کتاب پر جھک جاتا ہے۔
کیونکہ اسے بتایا گیا ہے:
"اچھے نمبر لاؤ گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔"
کسی نے اسے یہ نہیں بتایا کہ کامیابی اور محبت ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتیں۔
کسی نے اسے یہ نہیں سکھایا کہ زندگی صرف مقابلہ نہیں، تعلق بھی ہے۔
اس رات وہ اپنے کمرے میں اکیلا سو جاتا ہے۔
اور کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کی روح میں تنہائی کا پہلا بیج بو دیا گیا ہے۔
سال گزرتے ہیں۔
وہی بچہ صبح اسکول، دوپہر ٹیوشن، شام کوچنگ اور رات اسٹڈی روم میں گزارتا ہے۔
اس کے والدین اس سے محبت کرتے ہیں، اس کے لیے قربانیاں دیتے ہیں، اس کے خواب پورے کرنا چاہتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ اس کی تربیت میں ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔
اسے آگے بڑھنا تو سکھایا جاتا ہے، مگر ساتھ لے کر چلنا نہیں۔
اسے جیتنا تو سکھایا جاتا ہے، مگر نبھانا نہیں۔
اسے خود مختار بننا سکھایا جاتا ہے، مگر خود غرضی اور خود مختاری کے درمیان فرق نہیں سکھایا جاتا۔
اسی دوران ایک اور کہانی چل رہی ہوتی ہے۔
اس کے باپ کی کہانی۔
وہ باپ جو صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا ہے اور رات گئے لوٹتا ہے۔
جس کے جوتے گھس جاتے ہیں مگر وہ بچے کی کتابیں خریدتا ہے۔
جو اپنی خواہشات بیچ کر اولاد کے خواب خریدتا ہے۔
جو بیمار ہو کر بھی کام کرتا ہے تاکہ بچے کی فیس وقت پر جمع ہو جائے۔
جو اپنی جوانی اولاد کے مستقبل پر خرچ کر دیتا ہے۔
کئی مرتبہ بچے کو اس کی قربانیاں نظر نہیں آتیں۔
کیونکہ باپ اپنی محبت کا شور نہیں مچاتا۔
وہ خاموشی سے جلتا ہے، پگھلتا ہے، ختم ہوتا رہتا ہے۔
ماں کی کہانی اس سے بھی زیادہ خاموش ہوتی ہے۔
وہ راتوں کو جاگتی ہے۔
بخار میں ماتھے پر پٹیاں رکھتی ہے۔
بچے کے رونے پر خود رو لیتی ہے۔
اس کی کامیابی پر خود سے زیادہ خوش ہوتی ہے۔
اور ہر دعا میں اپنے لیے نہیں، اس کے لیے مانگتی ہے۔
ماں اپنی زندگی اولاد کے نام لکھ دیتی ہے۔
اور بدلے میں صرف اتنا چاہتی ہے کہ بڑھاپے میں جب اس کی آنکھیں کمزور ہو جائیں تو کوئی اس کی طرف بھی دیکھ لے۔
پھر وقت تیزی سے گزرتا ہے۔
اسٹڈی روم کا بچہ جوان ہو جاتا ہے۔
ڈگریاں دیوار پر آویزاں ہو جاتی ہیں۔
نوکری مل جاتی ہے۔
شادی ہو جاتی ہے۔
نیا گھر بن جاتا ہے۔
بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔
اور پھر عجیب بات ہوتی ہے۔
وہی کہانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
اس کے بچوں کے لیے بھی ایک الگ کمرہ بن جاتا ہے۔
ایک نیا اسٹڈی روم۔
ایک نیا بند دروازہ۔
ایک نئی تنہائی۔
ادھر ماں بوڑھی ہو رہی ہوتی ہے۔
باپ کی کمر جھکنے لگتی ہے۔
ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔
آنکھوں پر موٹے شیشے لگ جاتے ہیں۔
قدم سست ہو جاتے ہیں۔
وہی لوگ جنہوں نے کبھی اولاد کو چلنا سکھایا تھا، اب خود سہارا چاہتے ہیں۔
وہ دولت نہیں مانگتے۔
وہ جائیداد نہیں مانگتے۔
وہ صرف وقت مانگتے ہیں۔
چند لمحے۔
چند باتیں۔
چند ملاقاتیں۔
مگر یہی چیز سب سے مہنگی ہو جاتی ہے۔
ایک شام بوڑھا باپ اپنے بیٹے سے کہتا ہے:
"بیٹا، ذرا میرے پاس بیٹھو، تم سے بات کرنی ہے۔"
بیٹا موبائل سے نظریں اٹھائے بغیر جواب دیتا ہے:
"ابو، ابھی بہت مصروف ہوں۔ بعد میں بات کریں گے۔"
یہ "بعد میں" بڑھاپے کا سب سے ظالم جملہ ہے۔
کیونکہ بڑھاپے کے پاس وقت کم ہوتا ہے۔
اور اولاد کے پاس فرصت۔
پھر ایک دن گھر میں مشورہ ہوتا ہے۔
بڑی نرمی سے۔
بڑی شائستگی سے۔
بڑی مہذب زبان میں۔
کہ:
"اولڈ ایج ہوم بہتر رہے گا۔"
"وہاں دیکھ بھال ہوگی۔"
"ڈاکٹر ہوں گے۔"
"ہم بھی آتے جاتے رہیں گے۔"
الفاظ خوبصورت ہوتے ہیں۔
مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ایک گھر اپنے ہی ستونوں سے خالی ہونے جا رہا ہوتا ہے۔
گاڑی اولڈ ایج ہوم کے دروازے پر رکتی ہے۔
بوڑھی ماں اترتی ہے۔
کانپتے ہاتھوں سے دوپٹہ سنبھالتی ہے۔
بوڑھا باپ عصا پکڑ کر آہستہ آہستہ چلتا ہے۔
دونوں عمارت کو نہیں دیکھتے۔
اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں۔
شاید آخری بار۔
شاید اس امید میں کہ کوئی کہہ دے:
"نہیں امی، واپس گھر چلتے ہیں۔"
"نہیں ابو، آپ کہیں نہیں جائیں گے۔"
مگر ایسا نہیں ہوتا۔
دروازہ کھلتا ہے۔
وہ اندر چلے جاتے ہیں۔
اور ایک گھر ہمیشہ کے لیے تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
اولڈ ایج ہوم کے اندر ایک عجیب دنیا آباد ہوتی ہے۔
یہاں ہر چہرہ ایک کہانی ہے۔
ہر آنکھ ایک انتظار۔
ہر کمرہ ایک ادھورا رشتہ۔
کوئی ہر گاڑی کی آواز پر چونک جاتا ہے۔
کوئی ہر اتوار دروازے کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔
کوئی پرانے خطوط پڑھتا ہے۔
کوئی تصویریں دیکھتا ہے۔
کوئی بچوں کے بچپن کو یاد کرتا ہے۔
یہاں لوگ زندہ کم اور منتظر زیادہ ہوتے ہیں۔
ایک ماں پانچ سال سے اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
پہلے وہ ہر ہفتے آتا تھا۔
پھر ہر مہینے۔
پھر عیدوں پر۔
پھر فون آنے لگے۔
پھر صرف وعدے رہ گئے۔
مگر ماں امید نہیں چھوڑتی۔
کیونکہ ماں کا دل حساب نہیں کرتا۔
وہ آخری سانس تک انتظار کرتا ہے۔
ایک شام وہ بیمار پڑ جاتی ہے۔
سارا دن دروازے کو دیکھتی رہتی ہے۔
ہر آہٹ پر چونک جاتی ہے۔
ہر گاڑی پر مسکرا دیتی ہے۔
مغرب ہو جاتی ہے۔
رات ہو جاتی ہے۔
بیٹا نہیں آتا۔
سونے سے پہلے وہ نرس سے پوچھتی ہے:
"میرا بیٹا آیا تھا؟"
نرس خاموش رہتی ہے۔
ماں آہستہ سے کہتی ہے:
"کوئی بات نہیں... شاید اگلے اتوار آ جائے۔"
اور اسی امید کے ساتھ آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
ہمیشہ کے لیے۔
دوسری طرف ایک بوڑھا باپ اپنے بیٹے کا برسوں پرانا خط پڑھتا ہے۔
اس میں لکھا ہوتا ہے:
"ابو! بڑا ہو کر آپ کو دنیا کی ہر خوشی دوں گا۔"
بوڑھا آدمی دیر تک اس جملے کو دیکھتا رہتا ہے۔
پھر دھیرے سے کہتا ہے:
"بیٹا، مجھے دنیا کی ہر خوشی نہیں چاہیے تھی...
مجھے تو صرف تم چاہیے تھے۔"
یہاں آ کر سوال پیدا ہوتا ہے:
قصور کس کا ہے؟
صرف اولاد کا؟
نہیں۔
صرف والدین کا؟
نہیں۔
یہ ایک پورے معاشرے کی اجتماعی غلطی ہے۔
ایک ایسے تعلیمی نظام کی غلطی جو کردار کے بجائے صرف کیریئر بناتا ہے۔
ایک ایسی تہذیب کی غلطی جو دولت کو کامیابی اور مصروفیت کو عظمت سمجھتی ہے۔
ایک ایسے ماحول کی غلطی جہاں بچے کو ہر چیز سکھائی جاتی ہے مگر رشتے نبھانے کا ہنر نہیں سکھایا جاتا۔
آج ہم بچوں کو چاند تک پہنچنے کے طریقے سکھا رہے ہیں۔
مگر بوڑھے باپ کے کمرے تک جانے کا راستہ نہیں سکھا رہے۔
ہم انہیں دنیا جیتنا سکھا رہے ہیں۔
مگر اپنا گھر بچانا نہیں سکھا رہے۔
ہم انہیں کامیاب انسان بنا رہے ہیں۔
مگر اچھا بیٹا اور اچھی بیٹی بننے کی تعلیم نہیں دے رہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں اولڈ ایج ہوم کی پہلی اینٹ رکھی جاتی ہے۔
اولڈ ایج ہوم اس دن نہیں بنتا جب ایک عمارت تعمیر ہوتی ہے۔
یہ اس دن بنتا ہے جب محبت کی جگہ مصروفیت لے لیتی ہے۔
جب رفاقت کی جگہ تنہائی لے لیتی ہے۔
جب تربیت کی جگہ صرف کامیابی رہ جاتی ہے۔
جب گھر ایک ہوٹل بن جاتا ہے اور خاندان صرف ایک انتظامی اکائی۔
اگر ہم واقعی اولڈ ایج ہوم ختم کرنا چاہتے ہیں تو صرف عمارتوں پر تنقید کافی نہیں۔
ہمیں اپنے گھروں میں انقلاب لانا ہوگا۔
بچوں کو صرف کتابیں نہیں، بزرگوں کی صحبت بھی دینی ہوگی۔
انہیں صرف نمبر نہیں، احساس بھی سکھانا ہوگا۔
انہیں صرف کیریئر نہیں، کردار بھی دینا ہوگا۔
انہیں صرف جینا نہیں، ساتھ جینا سکھانا ہوگا۔
کیونکہ اولڈ ایج ہوم کی آخری دیوار کسی بلڈوزر سے نہیں گرے گی۔
وہ اس دن گرے گی جب ہر بچہ یہ سمجھ لے گا کہ بڑھاپا بوجھ نہیں، اس محبت کا آخری باب ہے جس نے اسے زندگی دی تھی۔
اور جب ہر ماں باپ یہ سمجھ لیں گے کہ اولاد کو صرف کامیاب بنانا کافی نہیں، اسے انسان بنانا بھی ضروری ہے۔
ورنہ آج کا اسٹڈی روم کل کے اولڈ ایج ہوم کی بنیاد بنتا رہے گا۔
اور ہر نسل یہی غلطی دہراتی رہے گی۔
ایک بند دروازے سے شروع ہونے والی تنہائی...
ایک دن کسی اولڈ ایج ہوم کے کمرے میں جا کر ختم ہو جائے گی۔
اسٹڈی روم سے اولڈ ایج ہوم تک ایک فکر انگیز اور دردناک سماجی مضمون ہے جو جدید تعلیمی نظام، خاندانی رویوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اولڈ ایج ہومز کے المیے کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس ت…
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!