اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
علیم طاہر اتوار، 17 مئی 2026
👁 28 ❤️ 2
ملے تھے تم تو رستے کا نکلنا تو یقینی تھا
مرے دل کا مسرت میں مچلنا تو یقینی تھا
مجھے اک کال پر تم نے رضامندی جو ظاہر کی
مرے پیروں کا وادی میں پھسلنا تو یقینی تھا
ترا احساس ہوتا تھا ہر اک دستک پہ کمرے میں
ہر اک آہٹ پہ اس دل کا دہلنا تو یقینی تھا
میں تنہا ہوں تو گرنے پر کہاں ممکن ہے اٹھ پانا
جو تم تھے ہم سفر میرے سنبھلنا تو یقینی تھا
ہماری آستینوں میں جو پلتے ہیں تو پلنے دو
مکاں میں سانپ نکلے تھے کچلنا تو یقینی تھا
کوئی روبوٹ تھوڑی تھے وہ سب انسان دشمن تھے
جو سرحد پر لگی گولی اچھلنا تو یقینی تھا
📖 خلاصہ

یہ احساس، محبت، جدائی اور سماجی شعور سے بھرپور غزل علیم طاہر کی فکری پختگی اور جذباتی گہرائی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے عشق کی کیفیت، محبوب کی موجودگی، تنہائی کے احساس اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کو نہ…

← پچھلا اگلا →

✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد دھڑکن‌دھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر کردار: بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ) سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ تحریر (رائٹر) : علیم طاہر کردار: رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن