اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 10 ❤️ 2
بر سرِ عدل منافق تہیں دستک ہے نا
در پہ پھر شاہ کے دیں گے لعیں دستک ہے نا
ساعتیں ساتھ گزاری ہوئی تیرے دل پر
رات بھر خواب میں دیتی رہیں دستک ہے نا
اک نئی چوٹ سے ہوتی ہے ملاقات جہاں
پھر بھی دیتا ہے مقدر وہیں دستک ہے نا
دل جلانے کے لئے اہلِ وفاؤں کا صنم
ہے صدا تیری کہیں اور کہیں دستک ہے نا
اب کہ آنکھوں سے اتر جاتے ہیں سیدھا دل میں
دل کے دروازے پہ دیتے نہیں دستک ہے نا
لوٹ کر آتے ہیں دہلیزِ محبت پہ جنوں
تم کو معلوم تھا دیں گے یہیں دستک ہے نا
نام لیتے ہیں خیالوں میں جہاں جس کا اسد
کہہ کے دیتے ہیں دوانے ہُویں دستک ہے نا
📖 خلاصہ

یہ علامتی، فکری اور داخلی کشمکش سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کے منفرد اسلوب اور تخلیقی اظہار کی نمایاں مثال ہے۔ شاعر نے “دستک” کو ایک مرکزی استعارہ بنا کر احساس، یاد، محبت، ضمیر اور تقدیر کی مختلف کیفی…

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن