غزل
عبدالدیان اسدؔ
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 17
❤️ 2
شمع خود آپ محبت کی بجھاتے کیوں ہو
آگ نفرت کی زمانے میں لگاتے کیوں ہو
جن کی آنکھوں میں اداسی کی لہر اٹھتی ہے
اپنی محفل میں انہیں آپ بلاتے کیوں ہو
تم تو کہتے تھے کہ ہے جان سے پیارا یہ ہمیں
کوچہُ یار کو پھر چھوڑ کے جاتے کیوں ہو
دین کا غازی بنانا ہے جو بچوں کو تمہیں
فلمیں سلمان کی پھر ان کو دکھاتے کیوں ہو
چاند سورج سے ستاروں سے ضیاء لے لے کر
حسنِ بے داغ پہ تم داغ لگاتے کیوں ہو
بھولنے کے لئے مدت لگی جس بات کو وہ
آپ ہر روز مجھے یاد دلاتے کیوں ہو
کیا کہا جان ہے وہ آپ کی مجنون اسد
پھر سرِ عام اسے آپ ستاتے کیوں ہو
📖 خلاصہ
یہ سوالیہ، سماجی اور اخلاقی شعور سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی فکری گہرائی اور اصلاحی اندازِ بیان کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں سوالات کی صورت میں انسانی رویّوں، منافقت، محبت کے دعووں اور عمل کے تضاد…
#Abdul Dayan Asad
#عبدالدیان اسد
#Urdu Ghazal
#Social Urdu Poetry
#Moral Poetry Urdu
#Deep Urdu Shayari
#Emotional Urdu Poetry
#Urdu Adab
#Philosophical Urdu Poetry
#Reform Poetry Urdu
#Modern Urdu Ghazal
#Heart Touching Poetry
#Human Behavior Poetry Urdu
#Educational Poetry Urdu
#Contemporary Urdu P
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں
جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں
زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے
چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے
...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج
بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج
احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی
جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی
دے کے آواز زمانے کو جو خام...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!