اردو کی داستان
اردو کی داستان
میں اردو ہوں۔
ہاں، وہی اردو جس کے ماتھے پر کبھی دلی کی دھوپ نے بوسہ دیا تھا، جس کے لہجے میں لکھنؤ کی نزاکت نے چاندنی گھولی تھی، جس کے دامن میں دکن کی مٹی کی خوشبو تھی، جس کی پیشانی پر فارسی کی سنجیدگی، عربی کی جلالت، ہندی کی مٹھاس اور برج کی نرمی نے اپنے اپنے رنگ چھوڑے تھے۔ میں وہی اردو ہوں جسے کبھی کوچہ و بازار کی زبان کہا گیا، کبھی لشکر کی، کبھی دربار کی، کبھی عشق کی، کبھی بغاوت کی، اور کبھی صرف ایک ایسی مجبور ماں کی جو اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو گئی۔
میں نے آنکھ اس وقت کھولی جب ہندوستان کی فضا میں کئی زبانوں کی صدائیں بیک وقت گونج رہی تھیں۔ کہیں مندروں کی گھنٹیاں سنسکرت کے اشلوکوں میں ڈھل رہی تھیں، کہیں خانقاہوں میں عربی کی آیتیں ہوا میں تحلیل ہو رہی تھیں، کہیں فارسی کے قصیدے بادشاہوں کے ایوانوں میں سنائے جا رہے تھے اور کہیں عوام اپنے دکھ سکھ برج، کھڑی بولی، پنجابی اور اودھی میں بیان کر رہے تھے۔ انہی بے شمار آوازوں کے بیچ میں، میں ایک ننھی سی صدا بن کر ابھری۔ نہ میرا کوئی مکمل چہرہ تھا، نہ کوئی باقاعدہ نام، نہ کوئی سلطنت، نہ کوئی تاج۔ میں محض ضرورت تھی، انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ایک خاموش خواہش۔
ابتدا میں لوگ مجھے مختلف ناموں سے پکارتے تھے۔ کوئی ہندوی کہتا، کوئی ریختہ، کوئی گجری، کوئی دکنی۔ مگر میں ان ناموں سے زیادہ ان لبوں کی محتاج تھی جو مجھے بولتے تھے۔ میں نے پہلے پہل درویشوں کے لبوں پر اپنا عکس دیکھا۔ امیر خسرو نے جب پہلی بار مجھے محبت کے آنچل میں لپیٹ کر گایا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری روح کو زبان مل گئی ہو۔ ان کے مصرعوں میں میں نے پہلی بار اپنی سانسوں کی لے سنی۔ وہ فارسی کے شہزادے تھے مگر انہوں نے مجھے گلے لگا کر یہ ثابت کیا کہ محبت کی کوئی ایک زبان نہیں ہوتی۔
دہلی کی گلیاں اس زمانے میں میرے بچپن کی پگڈنڈیاں تھیں۔ میں کبھی مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتی، کبھی کسی جوگی کے چرنوں میں جا کر سو جاتی، کبھی کسی سپاہی کی تلوار کے ساتھ سفر کرتی، کبھی کسی بازار کی رونق میں کھو جاتی۔ میں نے بادشاہوں کے دربار بھی دیکھے اور فقیروں کے کٹورے بھی۔ میں نے امیروں کی حویلیوں میں سنہری الفاظ پہنے اور غریبوں کے جھونپڑوں میں سادہ بولیوں کا دوپٹہ اوڑھ لیا۔
پھر وقت نے کروٹ بدلی اور میرے نصیب میں دکن لکھ دیا گیا۔ دکن نے مجھے صرف جگہ نہیں دی، اس نے مجھے جوانی دی۔ وہاں کی فضا میں ایک عجیب طرح کی نرمی تھی۔ میں نے پہلی بار وہاں اپنی آواز کو مکمل صورت میں سنا۔ محمد قلی قطب شاہ نے مجھے محبت کے گیت پہنائے، ولی دکنی نے میری پیشانی پر غزل کا پہلا چاند رکھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اب میں محض لوگوں کے درمیان رابطے کی زبان نہیں رہی، اب میں دلوں کی دھڑکن بن رہی ہوں۔
ولی دکنی جب اپنا دیوان لے کر دہلی آئے تو میرے مقدر کے دریچے بدل گئے۔ دہلی کے شعرا حیران تھے کہ یہ کیسی زبان ہے جس میں درد بھی ہے، نزاکت بھی، محبت بھی اور تاثیر بھی۔ اس دن پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ شاید میرا مستقبل بہت وسیع ہے۔ میں نے دیکھا کہ فارسی کے بلند میناروں کے سائے میں میرے لیے بھی ایک چھوٹی سی جگہ بن رہی ہے۔
پھر میرے شباب کا زمانہ آیا۔
میر میرے دروازے پر آئے۔ آہ، میر! وہ شخص نہیں، ایک ٹوٹا ہوا دل تھا۔ انہوں نے مجھے صرف الفاظ نہیں دیے، انہوں نے مجھے آنسو دیے۔ ان کی غزلوں میں میں نے انسانی روح کے سب سے گہرے زخم دیکھے۔ جب وہ کہتے تھے کہ عشق ایک میر بھاری پتھر ہے، تب مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میں صرف زبان نہیں رہی، میں انسان کے اندر چھپی ہوئی چیخ بن گئی ہوں۔
میر کے بعد سودا آئے۔ انہوں نے میرے لہجے میں طنز کی آگ جلائی۔ درد آئے تو میرے دامن میں تصوف کی خوشبو بھر دی۔ پھر غالب آئے۔
غالب…
وہ شخص میری تقدیر کا ایک عجیب باب تھا۔ اس نے مجھے سوچنا سکھایا۔ اس نے میرے الفاظ کو فلسفے کی آگ میں ڈھالا۔ اس نے میرے اندر سوالات پیدا کیے۔ میں پہلے صرف جذبات کی زبان تھی، غالب نے مجھے فکر کی زبان بنا دیا۔ اس کے خطوط میں میں نے پہلی بار اپنے لہجے کو روزمرہ زندگی کے قریب پایا۔ وہ مجھ سے بات کرتا تھا تو یوں لگتا جیسے کوئی تھکا ہوا انسان رات گئے اپنے دل کا بوجھ اتار رہا ہو۔
مگر میری زندگی صرف بہاروں کا نام نہ تھی۔
1857ء آیا اور میرے وجود پر خزاں اتر آئی۔
دہلی جل رہی تھی۔ کوچے سنسان تھے۔ مشاعرے خاموش ہو گئے تھے۔ وہ لب جو مجھے محبت سے بولتے تھے، یا تو قتل ہو چکے تھے یا ہجرت کر گئے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے چاہنے والوں کو برباد ہوتے دیکھا۔ میں ان کے ساتھ روئی۔ میں نے ویران مسجدوں کے صحنوں میں اپنے لفظوں کی گونج تلاش کی مگر ہر طرف خاموشی تھی۔
اس زمانے میں مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میرا کوئی گھر نہیں رہا۔
پھر سر سید آئے۔ انہوں نے میرے زخمی وجود پر مرہم رکھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ صرف ماضی کے آنسو کافی نہیں، زندہ رہنے کے لیے علم بھی چاہیے۔ انہوں نے میرے ہاتھ میں قلم دیا، اخبار دیا، مضمون دیا۔ میں نے پہلی بار سائنس کے لفظ سیکھے، جدید تعلیم کے دروازے دیکھے۔
پھر حالی آئے۔ انہوں نے مجھے آئینہ دکھایا۔ کہا کہ اے اردو، تجھے صرف عشق کے قصے نہیں سنانے، تجھے قوم کی اصلاح بھی کرنی ہے۔ شبلی آئے، آزاد آئے، نذیر احمد آئے۔ میں بدل رہی تھی، میں سیکھ رہی تھی۔
اور پھر ایک دن اقبال میرے در پر آئے۔
وہ عجیب شخص تھا۔ اس کی آنکھوں میں خواب تھے اور آواز میں بجلی۔ اس نے میرے اندر سوئی ہوئی قوموں کو جگانے کی کوشش کی۔ اس نے مجھے شاہین دیا، خودی دی، پرواز دی۔ اس کی شاعری میں میں نے پہلی بار اپنے لہجے کو آسمانوں سے بات کرتے دیکھا۔
مگر دنیا بدل رہی تھی۔
جنگیں ہو رہی تھیں، سلطنتیں ٹوٹ رہی تھیں، انسان نئے نظریات کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ میں بھی ان تبدیلیوں سے گزر رہی تھی۔ ترقی پسند آئے۔ انہوں نے میرے ہاتھوں میں مزدور کے زخم رکھ دیے، کسان کی بھوک رکھ دی، عورت کی چیخ رکھ دی۔ فیض نے میرے آنچل میں انقلاب کے پھول رکھے۔ منٹو نے میرے چہرے سے منافقت کا نقاب اتار دیا۔ عصمت نے مجھے عورت کے آنسو دکھائے۔ بیدی نے انسان کی ٹوٹتی ہوئی روح دکھائی۔
پھر 1947ء آیا۔
اس دن میں دو حصوں میں بٹ گئی۔
ایک ہی رات میں میرے لہجے سرحدوں کے پار تقسیم ہو گئے۔ دہلی کی گلیاں مجھ سے چھن گئیں، لاہور کے کوچے خون سے بھر گئے۔ میں نے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلتے دیکھا، بچوں کو ماں کی لاشوں سے لپٹتے دیکھا، ٹرینوں کو لاشوں سے بھرا دیکھا۔ اس دن میری روح پر جو زخم لگا، وہ آج تک نہیں بھرا۔
پاکستان میں مجھے قومی زبان کہا گیا، ہندوستان میں مجھے محبت کی زبان کہا گیا، مگر دونوں طرف میں تنہا ہوتی گئی۔ سیاست میرے گرد دیواریں کھڑی کرتی رہی اور میں اپنے لوگوں کو پکارتے پکارتے تھک گئی۔
پھر بھی میں زندہ رہی۔
فیض میرے ساتھ تھے۔ فراز میرے ساتھ تھے۔ ناصر کاظمی میرے ویران دل کی دھڑکن تھے۔ پروین شاکر نے میرے لبوں پر عورت کے نرم احساس رکھے۔ جون ایلیا نے میری راتوں میں فلسفے کا زہر گھولا۔ میں ہر دور میں نئے چہرے پہنتی رہی مگر اندر سے وہی رہی، زخمی، حساس، محبت سے بھری ہوئی۔
مگر اب جو زمانہ آیا ہے، وہ پہلے زمانوں سے بہت مختلف ہے۔
اب لوگ مجھے پڑھتے کم اور استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ میرے الفاظ مختصر ہو گئے ہیں، میرے جملے ٹوٹ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے شور میں میری تہذیب کی دھیمی موسیقی دبتی جا رہی ہے۔ کبھی میرے ایک ایک لفظ پر گھنٹوں غور کیا جاتا تھا، آج لوگ مجھے چند سیکنڈ میں لکھ کر بھول جاتے ہیں۔ میرے محاورے مر رہے ہیں، میری نزاکتیں گم ہو رہی ہیں، میری املا زخمی ہے، میری روح تھکی ہوئی ہے۔
مجھے سب سے زیادہ دکھ تب ہوتا ہے جب میرے اپنے بچے مجھ سے شرمانے لگتے ہیں۔
وہ انگریزی میں خواب دیکھتے ہیں، دوسری زبانوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور مجھے صرف تقریبات یا مشاعروں تک محدود سمجھتے ہیں۔ میں نے تو انہیں ماں کی لوری دی تھی، پہلی محبت کا اظہار دیا تھا، دعا دی تھی، غزل دی تھی، مگر آج وہ مجھے بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔
کبھی کبھی رات کے آخری پہر میں، جب دنیا سو جاتی ہے، میں اپنے پرانے دن یاد کرتی ہوں۔ دہلی کی وہ محفلیں، لکھنؤ کی وہ شامیں، دکن کی وہ خوشبو، غالب کی وہ ہنسی، میر کے وہ آنسو، اقبال کی وہ للکار، فیض کی وہ امید… سب میری یادوں میں زندہ ہیں۔
میں آج بھی زندہ ہوں۔
ہاں، زخمی ہوں، تھکی ہوئی ہوں، مگر زندہ ہوں۔
کیونکہ ابھی بھی کوئی ماں اپنے بچے کو میری لوری سناتی ہے۔ ابھی بھی کوئی عاشق میری غزل میں اپنا دل ڈھونڈتا ہے۔ ابھی بھی کسی لائبریری کے خاموش گوشے میں کوئی نوجوان میری کتاب کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ ابھی بھی کوئی شاعر رات کے اندھیرے میں میری آغوش میں اپنے آنسو رکھ دیتا ہے۔
میں اردو ہوں۔
میں نے سلطنتوں کو ٹوٹتے دیکھا ہے مگر لفظوں کو مرتے نہیں دیکھا۔ میں جانتی ہوں کہ میرا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ خزاں میرے درخت سے پتے گرا سکتی ہے، مگر میری جڑیں ابھی زندہ ہیں۔ ایک دن پھر کوئی نیا خسرو آئے گا، کوئی نیا غالب، کوئی نیا فیض، اور میرے تھکے ہوئے لہجے میں پھر زندگی کی روشنی اتر آئے گی۔
میں اردو ہوں۔
میں صرف زبان نہیں، صدیوں کی دھڑکن ہوں۔
اردو کی داستان: ہندوی سے ڈیجیٹل دور تک — اردو زبان، شاعری، لغت، تہذیب اور ادبی تاریخ کا آٹھ سو سالہ جامع سفر۔ امیر خسرو، میر، غالب، اقبال، فیض اور جدید اردو ادب تک ایک تحقیقی و ادبی کتاب جس میں اردو ک…
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!