اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 8 ❤️ 2
ڈور تک ثابت نہیں اعصاب کی
کر رہے ہیں بات آب و تاب کی
طفلِ کے عالم سے لے کر قبر تک
"ہم نے اک سیڑھی بنائی خواب کی"
اب تو سایہ بھی نہیں ہے میرے ساتھ
مال تھا تو بھیڑ تھی احباب کی
آج پھر سے اک نیا فرقہ بنا
آج پھر بارش ہوئی القاب کی
آرہے ہیں بس نظر عمرِ دراز
مسجدوں میں ہے قطار اسباب کی
کھڑکیاں گھر میں نہیں ہے آج سے
اور ضرورت بھی نہیں ہے باب کی
سب کا اپنا اک کلینڈر ہے اسدؔ
نوکری خطرے میں ہے مہتاب کی
📖 خلاصہ

یہ علامتی، سماجی اور فکری غزل عبدالدیان اسد جدید انسانی زندگی کے مسائل، معاشرتی رویّوں اور داخلی اضطراب کی گہری عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں “اعصاب”، “خواب”، “احباب”، “القاب” اور “اسباب” جیسے الفاظ کے …

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن