خیالات کی بکھری ہوئی جھلک
میں نے گھڑی کی سوئیوں کو غور سے دیکھا، وہ چل تو رہی تھیں مگر کہیں پہنچ نہیں رہیں۔ شاید وقت بھی ہماری طرح صرف مصروف ہے، مکمل نہیں۔
دروازے پر لگی گھنٹی بجی تو لگا کوئی آیا ہے، مگر اندر صرف خاموشی داخل ہوئی اور بیٹھ گئی۔
میں نے پانی کے گلاس میں جھانکا تو اپنا چہرہ دھندلا سا نظر آیا، جیسے میں خود سے بھی پوری طرح واقف نہیں۔
کھڑکی سے آتی ہوا نے کاغذ ہلایا مگر لکھا ہوا لفظ اپنی جگہ قائم رہا، شاید خیال ہوا سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
میں نے روشنی کو چھونے کی کوشش کی، وہ ہاتھ نہیں آئی، مگر میرے اندر پھیل گئی۔
سڑک پر چلتے لوگ ایک جیسے نہیں تھے، مگر سب کی رفتار ایک جیسی بےچینی میں لپٹی ہوئی تھی۔
ایک پرانا بٹن زمین پر پڑا تھا، شاید کسی قمیض کا حصہ تھا، مگر اب وہ صرف یاد جیسا لگ رہا تھا۔
میں نے آئینے سے پوچھا “میں کون ہوں؟” آئینہ خاموش رہا، شاید وہ بھی سوالوں سے تھک گیا تھا۔
رات نے شہر کو آہستہ آہستہ بند کیا، جیسے کوئی کتاب کے صفحات ایک ایک کر کے سمیٹ رہا ہو۔
ایک سایہ دیوار پر دیر تک ٹھہرا رہا، مگر روشنی نے اسے بھی آخرکار اپنی سمت بلا لیا۔
میں نے آواز دی مگر جواب میں صرف ہوا آئی، شاید کچھ سوالوں کے جواب آوازوں میں نہیں ہوتے۔
ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی، بس محسوس ہونے کا انداز بدل گیا تھا، جیسے حقیقت نے بھی اپنی زبان بدل لی ہو۔
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!