اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 9 ❤️ 3
پاگل نے اس کی دید کا جب دام لکھ دیا
گستاخِ حسن اس نے سرِ عام لکھ دیا
سولی پہ بے نقاب ہی آنے کا تھا سوال
خامہ اٹھا کے میں نے بھی صدام لکھ دیا
اک حسن جو ہوا تھا تولد خیال سے
نادیدہ اس حسین کو پیغام لکھ دیا
کل رات اک فقیر نے آکر نہ جانے کیوں
مرقد کے سر پہ عشق کا انجام لکھ دیا
لکھی گئی کتابوں میں الفت کی داستاں
فرقت کے شعر میں نے بھی ہرگام لکھ دیا
کمزور قافیوں سے نبھاتا رہا ردیف
مقطع بچا تھا اس میں ترا نام لکھ دیا
جب قیس کا جنون اسد حد سے بڑھ گیا
لیلی نے اس کو عشق کا گلفام لکھ دیا
📖 خلاصہ

یہ تخلیقی، علامتی اور عشق و جنون سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی فکری جولانی اور استعاراتی حسن کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں “دام”، “حسن”، “صدام”، “مرقد”، “قیس” اور “لیلیٰ” جیسے تاریخی و رومانوی حوال…

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن