اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
شاعر: احمد فرازؔ
❤️ 0 پسند ← واپس
👁 13 بار پڑھی 📅 09 Jun 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
احمد فرازؔ کا یہ شعر اردو غزل کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ یہ غزل ان کے مجموعے تنہا تنہا میں شامل ہے اور اسے مختلف گلوکاروں نے گایا ہے۔
پہلے مصرعے میں فرازؔ کہتے ہیں کہ اگر محبوب ناراضگی کے ساتھ بھی آئے اور دل دکھانے کے لیے ہی آئے تو بھی آئے کیونکہ اس کی آمد ہی کافی ہے۔
دوسرے مصرعے میں وہ کہتے ہیں کہ آ اور پھر مجھے چھوڑ کر چلا جا یہ بھی گوارا ہے۔ یہاں عاشق کی بے بسی اور محبوب پر انحصار کا اظہار ہے۔
یہ شعر عاشق کی اس نفسیاتی کیفیت کو بیان کرتا ہے جب وہ محبوب کی جدائی میں اس قدر تڑپتا ہے کہ تکلیف کے ساتھ ملاقات بھی جدائی سے بہتر لگتی ہے۔
📝 الفاظ کے معنی
رنجش: ناراضگی گلہ شکایت
سہی: ہی سہی چاہے ہو
دل دکھانا: تکلیف دینا آزردہ کرنا
🏛️ پس منظر
احمد فرازؔ 1931 میں کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو کے مشہور رومانوی شاعر تھے۔ 2008 میں انتقال کیا۔
💡 مرکزی خیال
محبت میں انسان درد کو بھی قبول کرتا ہے — جدائی کا درد ملاقات کے درد سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔
✨ ادبی خصوصیات
تضاد: دل دکھانے اور محبت کا تضاد شعر کو گہرائی دیتا ہے۔
انشائیہ اسلوب: شعر میں درخواست کا انداز ہے۔
تکرار: آ کا تکرار التجا کو بڑھاتا ہے۔
موسیقیت: شعر میں خوبصورت آہنگ ہے۔

✍️ سید احمد شاہ — مختصر تعارف

سید احمد شاہ
📍 کوہاٹ، خیبر پختونخوا (پاکستان)

✨ احمد فراز کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)

🟢 احمد فراز کی سوانح حیات
🟢 تعارف
احمد فراز اردو کے معروف شاعر تھے۔
ان کا اصل نام: سید احمد شاہ تھا، جبکہ تخلص “فراز” تھا۔
وہ اپنی رومانوی اور مزاحمتی شاعری کے لیے مشہور ہیں۔

📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 12 جنوری 1931ء
📍 مقام: کوہاٹ، خیبر پختونخوا (پاکستان)
ایک معزز سید خاندان سے تعلق تھا

📚 تعلیم و تربیت
پشاور یونیورسٹی سے تعلی …

مزید پڑھیں ←
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن