مرثیہ
عبدالدیان اسدؔ
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 17
❤️ 3
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج
بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج
احباب رشتے دار ہیں ہمسائے دیکھئے
آنکھوں میں اشک چہرے سے ظاہر غمی ہے آج
ان کے ہر اک گناہ کو مولا تو بخش دے
صدقے میں اہلِ بیت کے بندہ لبی ہے آج
ان کی محبتوں کے ہی چرچے ہیں چار سو
یادوں سے ان کی بے بسی ہر سو بسی ہے آج
بے چین بیٹے بیٹیاں بے چین ہے مکاں
ماں سے جدائی کی بڑی مشکل گھڑی ہے آج
دیوار و در ستون بھی پوچھیں یہ بار بار
معراج بی کو ڈھونڈتی نظریں سبھی ہے آج
ایسا اسد نے لکھّا ہے اک ماں کا مرثیہ
کاغذ قلم بھی روتے ہیں نم زندگی ہے آج
📖 خلاصہ
یہ درد، جدائی اور ماں کی یاد سے لبریز مرثیہ عبدالدیان اسد کی جذباتی شدت اور خاندانی وابستگی کا نہایت اثرانگیز اظہار ہے۔ شاعر نے “معراج بی” کی یاد کو مرکز بنا کر ایک ایسے گھر کا منظر پیش کیا ہے جہاں ہر…
#Abdul Dayan Asad
#عبدالدیان اسد
#Marsiya Urdu Poetry
#Mother Poetry Urdu
#Sad Urdu Poetry
#Emotional Urdu Shayari
#Urdu Adab
#Urdu Marsiya
#Family Separation Poetry
#Heart Touching Urdu Poetry
#Deep Urdu Poetry
#Grief Poetry Urdu
#Contemporary Urdu Poet
#Urdu Literature
#Loss Poetry Urdu
#Emotional
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں
جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں
زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے
چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے
...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج
بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج
احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی
جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی
دے کے آواز زمانے کو جو خام...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!