اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
حمد
عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 108 ❤️ 4
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے
چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے
تمام بینا تو دیکھتے ہیں مگر یہ قدرت ہے تیری مولا
وہ جن کے ماتھے پہ تیرگی ہے انہیں بھی دنیا دکھا رہا ہے
کسی کو سیراب کر رہا ہے تو جلتے صحرا کی آندھیوں میں
کسی کو دریا کی اٹھتی موجوں میں تو ہی پیاسا ڈوبا رہا ہے
عظیم قدرت ہے تیری مولا کہیں گلستاں کہیں پہ صحرا
کہیں پہ لاوا کہیں پہ چشمہ کہیں پہ فصلیں اگا رہا ہے
یہ آسماں پہ تمام تارے تری ہی قدرت کے ہیں نظارے
تو ریگزاروں میں پتھروں پہ حسین گل بھی کھلا رہا ہے
یہ چاند تاروں کا کہکشاؤں کا رات ہوتے ہی کوئی منظر
پہاڑ دریا ندی سمندر شجر حجر کو بتا رہا ہے
نصیب میرا کہ کہہ رہے ہیں یہ سننے والے تمام سن کر
یہ حمد تیری ہے میرے مولا اسد جو کلمہ سنا رہا ہے
📖 خلاصہ

یہ حمدیہ کلام عبدالدیان اسد کی فکری وسعت، روحانی احساس اور قدرتِ الٰہی پر گہرے یقین کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ شاعر نے کائنات کے مختلف مناظر—صحرا، دریا، گلستاں، آتش، چشمہ اور آسمان—کو ایک ہی خالق کی …

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن