ڈرامہ آخری سیٹی حصہ دوم
ڈراما نگار: علیم طاہر
منظر:
دو مہینے بعد۔ بابا جان کا کمرہ ویران سا ہے۔ در و دیوار پر خاموشی کی تہیں چڑھی ہوئی ہیں۔ دیوار پر وہی گھڑی اب بند ہے۔ صحن میں ہانیہ خاموشی سے بیٹھ کر بابا جان کی دی ہوئی سیٹی کو دیکھ رہی ہے۔
سلمان (دھیرے سے داخل ہوتا ہے)
ہانیہ... تم یہاں اکیلی بیٹھی ہو؟
ہانیہ (نم آنکھوں سے)
سلمان بھائی... بابا نانا نے کہا تھا وقت کی گاڑی چھوٹنے لگے تو سیٹی بجا دینا۔ پر جب اُن کی زندگی کی گاڑی چھوٹی... میں کچھ نہ کر سکی۔
سلمان (اداس مسکراہٹ کے ساتھ)
بابا جان وقت کے پابند تھے، لیکن وقت نے اُنہیں مہلت نہ دی۔ پچھلے ہفتے جو خط آیا تھا... وہ ریلوے میوزیم والوں کی طرف سے تھا، اُنہوں نے بابا جان کی وردی، گھڑی، اور سیٹی مانگی ہے نمائش کے لیے۔
آمنہ (اندر سے آتی ہوئی)
پر میں نے سیٹی دینے سے انکار کر دیا۔
سلمان (حیرت سے)
کیوں ماں؟
آمنہ
کیونکہ وہ صرف دھات کی ایک سیٹی نہیں تھی... وہ بابا جان کی زندگی کا آخری جملہ تھی۔
منظر تبدیل ہوتا ہے۔
رات کا وقت۔ صحن میں بابا جان کی کرسی اب خالی ہے۔ ہانیہ، سیٹی لے کر کرسی پر بیٹھتی ہے۔
ہانیہ (خود سے)
بابا نانا... میں آپ کے قصے یاد رکھوں گی۔ آپ کا وقت، آپ کی گاڑیاں، آپ کی سیٹیاں، سب سنبھال کے رکھوں گی۔
اچانک صحن کے ایک کونے سے پرانا دوست انور آتا ہے۔ ہاتھ میں بابا جان کی ایک ڈائری ہے۔
انور
یہ لو بچی، یہ تمہارے بابا نانا کی ڈائری ہے۔ ہر صفحے پر ایک قسط، ایک قصہ، ایک سبق... یہ اُس شخص کی آخری ٹرین کی ٹکٹ ہے، جس نے زندگی بھر دوسروں کو وقت پر پہنچایا، مگر خود ہمیشہ آخری ویگن میں رہا۔
سلمان (ڈائری لیتے ہوئے)
ہم سب نے انہیں صرف ایک ریلوے گارڈ سمجھا... پر وہ زندگی کے فلسفی تھے، وقت کے محافظ۔
آمنہ (نرمی سے)
اور اب ہم سب اُن کے مسافر ہیں... جو اُن کی یاد کی پٹری پر سفر کر رہے ہیں۔
آخر میں
ہانیہ سیٹی بجاتی ہے۔ روشنی مدھم ہوتی ہے۔ پس منظر میں بابا جان کی آواز گونجتی ہے جیسے کسی خواب سے:
بابا جان (آواز میں)
"یاد رکھنا بچو... وقت کبھی لیٹ نہیں ہوتا، صرف ہم چھوٹ جاتے ہیں۔"
پَردہ گرتا ہے۔



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!