نعت
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 51
❤️ 4
میں دل میں عشقِ نبیؐ بے مثال رکھتا ہوں
نصیب اپنا اسی سے اُجال رکھتا ہوں
قدم قدم پہ لبوں پر ہے میرے ذکرِ رسولؐ
اسی سے دور میں اپنے ملال رکھتا ہوں
مجھے یقین ہے اک روز جاؤں گا طیبہ
میں بارگاہِ خدا میں سوال رکھتا ہوں
نبیؐ و آلِ نبیؐ پر نزولِ رحمت ہو
،درود اس لیے میں لازوال رکھتا ہوں
چراغاں کرتے ہیں سرکارؐ کی جو آمد پر
انہی کے ساتھ میں خود کو بحال رکھتا ہوں
اسی میں سب سے ہے اوپر نبیؐ کی آل کا عشق
میں اپنے پاس جو مال و منال رکھتا ہوں
اندھیرا دل میں مرے ہو نہ پائے گا ہاشمؔ
میں اس میں ذکرِ نبیؐ کا ہلال رکھتا ہوں
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!