غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 14
❤️ 3
سہمی سہمی ہوئی نڈھال ہوا
کر رہی ہے کوئی سوال ہوا
تیرے اپنے ہیں کچھ کمال ہوا
جن کی ملتی نہیں مثال ہوا
اپنے سر پہ اُٹھائے بادل کو
کرتی رہتی ہے انتقال ہوا
ہے ارادہ تباہ کرنے کا
سننے آئی نہ سر نہ تال ہوا
تیرے کوچے سے آرہی ہے مجھے
مشک عنبر سی بے مثال ہوا
کیوں چراغوں کو ہوگا خوف کوئی
رکھ رہی ہے جو خود خیال ہوا
چھت اُڑا کر غریب ہاشمؔ کی
اپنا غصہ نہ یوں نکال ہوا
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!