اُمم کی سہیلی
اُمم کے سکول میں ایک نئی لڑکی آئی جس کا نام ریحانہ تھا۔ ریحانہ دوسرے شہر سے آئی تھی اور اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ بریک میں اکیلی بیٹھی رہتی تھی۔
اُمم نے دیکھا کہ ریحانہ اداس ہے۔ اُمم کی سہیلیاں کہنے لگیں: "اس سے دوستی مت کرو، ہم نہیں جانتے یہ کیسی ہے۔"
لیکن اُمم نے سوچا کہ اگر وہ خود نئی جگہ جاتی تو کیسا محسوس کرتی؟
اُمم ریحانہ کے پاس گئی اور مسکرا کر کہا: "میرا نام اُمم ہے، کیا تم میرے ساتھ کھانا کھاؤ گی؟"
ریحانہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ دونوں نے ساتھ کھانا کھایا اور باتیں کیں۔
جلد ہی ریحانہ اُمم کی سب سے اچھی سہیلی بن گئی۔ ریحانہ نے کہا: "تم نہ ہوتیں تو میں بہت اکیلی ہوتی۔ شکریہ اُمم۔"
سبق: دوسروں کے دکھ کو سمجھو اور مدد کا ہاتھ بڑھاؤ۔
یہ کہانی اُمم نامی ایک مہربان اور ہمدرد بچی کی ہے۔ اس کے سکول میں ریحانہ نامی ایک نئی لڑکی آئی جو دوسرے شہر سے آئی تھی اور کسی کو نہیں جانتی تھی۔ وہ تنہائی محسوس کرتی تھی اور بریک میں اکیلی بیٹھی رہتی…
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!