اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 33 ❤️ 3
جو مسافر رہِ نجات ہوئے
تلخ سب سے تعلقات ہوئے
زندگی میں جو سانحات ہوئے
بس وہی حاصلِ حیات ہوئے
گھر جو دشمن جلانے آئے تو
میرے اپنے بھی ان کے ساتھ ہوئے
کچھ سلامت نہیں رہا جن کا
وہی محفوظِ حادثات ہوئے
تب سے ہر سو مودی مودی ہے
جب سے گودی قلم دوات ہوئے
چھوڑ کر اور تو گئے لیکن
میرے اپنے نہ میرے ساتھ ہوئے
مان کو مجرم شمار مت کرنا
وہ تو مقصودِ واردات ہوئے
جا کے پردیش کیا ہوا ان کو
لوٹ آتے تھے گھر جو رات ہوئے
ہم کو کیا کچھ سکھا گئے ہاشم
وقتِ مشکل جو تجربات ہوئے
📖 خلاصہ

یہ سماجی مشاہدے، تلخ تجربات اور داخلی کرب سے بھرپور غزل ہاشم انور ہاشم کی فکری گہرائی اور معاشرتی شعور کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر نے زندگی کے حادثات، رشتوں کی بے وفائی، اور حالات کی سختیوں کو نہایت سادہ …

← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن