اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 14 ❤️ 1
اک ہاں سے ہی پا سکتا ہےدل پیار کسی کا
اور جان بھی لے سکتا ہے انکار کسی کا
الفت سے کیا راستہ ہموار کسی نے
نفرت نے کیا راستہ دشوار کسی کا
یہ عشق کی رعنائیاں الفت کا ثمر ہے
آنکھوں کی عبادت بنا دیدار کسی کا
چل اُٹھ زرا ہم لوگ کہیں گھوم کے آئیں
کیوں خود کو بنا رکھّا ہے بیمار کسی کا
احسان تلے دب کے وہ کہتا ہے جہاں سے
رکھتا ہی نہیں خود پہ میں اپکار کسی کا
حق بات سے منہ پھیر کے بن بیٹھے منافق
تائید کسی کی ہے نہ انکار کسی کا
لعنت کی کسی چہرے پہ پھٹکار پڑی ہے
نعمت سے ہوا چہرہ ہے ضوبار کسی کا
اک " لا " سے بچالے جو سبھی دین و شریعت
"شبیؑر "سا ملتا نہیں انکار کسی کا
تفسیرِ محبت میں کئی لوگ ہیں شامل
"اعمال کسئ کے ہیں کردار کسی کا "
ہاشمؔ ترے اشعار سے محسوس ہوا یہ
غزلوں کا اُٹھا لایا تو انبار کسی کا
← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن