اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
ناول

ضیافت

منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ جمعرات، 7 مئی 2026
👁 20 ❤️ 0

ایک سماجی و تہذیبی ناول

تمہید

ضیافت صرف کھانے کا نام نہیں ہوتی، یہ دلوں کے دروازے کھولنے کا فن بھی ہے۔ کسی گھر میں بچھی ہوئی دسترخوان کی چادر بعض اوقات برسوں کی دوریاں سمیٹ لیتی ہے۔ ایک پیالہ چائے دشمنیوں کو دوستی میں بدل دیتا ہے اور ایک لقمہ انسان کو انسان کے قریب لے آتا ہے۔ مگر جب معاشرہ مادّیت، نمود و نمائش اور مفاد پرستی کا شکار ہو جائے تو ضیافت بھی اخلاص کے بجائے دکھاوے کی علامت بن جاتی ہے۔ یہی اس ناول کی کہانی ہے۔

---

پہلا باب

دعوت کا کارڈ

مالیگاؤں کی ایک پُرانی مگر باوقار بستی میں حاجی عبدالوحید کا گھر دور دور تک اپنی مہمان نوازی کے لیے مشہور تھا۔ سفید رنگ کی دو منزلہ عمارت، صحن میں کھڑا نیم کا پرانا درخت، اور دروازے پر لٹکتی ہوئی پیتل کی گھنٹی اُس گھر کی شناخت تھی۔ لوگ کہا کرتے تھے:

“اگر اس شہر میں کسی کے دسترخوان پر برکت اترتی ہے تو وہ حاجی صاحب کا گھر ہے۔”

حاجی عبدالوحید کپڑے کے تاجر تھے۔ عمر ساٹھ کے قریب پہنچ چکی تھی مگر چہرے پر عجیب سی تازگی رہتی۔ وہ جب مسکراتے تو محسوس ہوتا جیسے برسوں کی تھکن بھی سکون میں بدل گئی ہو۔ ان کی بیوی زبیدہ خاتون نہایت سادہ مزاج خاتون تھیں۔ گھر کی رونق، صفائی اور مہمان نوازی انہی کی وجہ سے قائم تھی۔

اس دن گھر میں غیر معمولی چहल پہل تھی۔ صحن میں کرسیاں دھوئی جا رہی تھیں، باورچی خانے سے مصالحوں کی خوشبو اٹھ رہی تھی اور اوپر والی منزل پر لڑکیاں پردے بدل رہی تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ حاجی صاحب نے پورے محلے کے لیے ایک عظیم الشان ضیافت کا اعلان کیا تھا۔

“مگر آخر اچانک یہ دعوت کیوں؟” محلے والوں کی زبان پر یہی سوال تھا۔

کسی نے کہا: “شاید بڑے بیٹے کی منگنی طے ہو گئی ہے۔”

دوسرے نے رائے دی: “نہیں بھئی، سنا ہے حاجی صاحب عمرے سے واپس آئے ہیں، اسی خوشی میں دعوت ہے۔”

مگر حقیقت ان سب سے مختلف تھی۔

شام کے وقت جب حاجی صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے دعوتی کارڈ دیکھ رہے تھے تو ان کے بڑے بیٹے سلیم نے پوچھا: “ابو! اتنا خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آج کل لوگ دعوت میں کھانے سے زیادہ برائیاں تلاش کرتے ہیں۔”

حاجی صاحب مسکرائے۔ “بیٹا! رزق بانٹنے سے کم نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی، انسان کے جانے کے بعد لوگ اُس کی دولت نہیں، اُس کے اخلاق یاد رکھتے ہیں۔”

سلیم خاموش ہو گیا، مگر اُس کے چہرے پر تشویش باقی تھی۔ وہ جدید سوچ رکھنے والا نوجوان تھا۔ اُس کے نزدیک زمانہ بدل چکا تھا۔ اب لوگ اخلاص نہیں بلکہ حیثیت دیکھتے تھے۔

ادھر چھوٹا بیٹا فرحان موبائل ہاتھ میں لیے مسلسل تصویریں بنا رہا تھا۔ “بھائی! یہ دعوت سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے گی۔” وہ ہنستے ہوئے بولا۔

حاجی صاحب نے ذرا سخت لہجے میں کہا: “فرحان! ہر چیز نمائش کے لیے نہیں ہوتی۔ کچھ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے بھی کیے جاتے ہیں۔”

فرحان نے موبائل جیب میں رکھا مگر مسکراہٹ نہ چھپا سکا۔

رات گہری ہوئی تو زبیدہ خاتون نے آہستہ سے کہا: “آپ نے لوگوں کو بلا تو لیا، مگر کیا سب آئیں گے؟ آج کل رشتوں میں پہلے جیسی گرمجوشی کہاں رہی؟”

حاجی صاحب کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے: “میں جانتا ہوں وقت بدل گیا ہے… مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ انسان کے دل میں محبت آج بھی زندہ ہے، بس اسے جگانے والا چاہیے۔”

اگلی صبح پورے محلے میں دعوتی کارڈ تقسیم ہونے لگے۔ بچے خوشی خوشی دوڑ رہے تھے۔ بوڑھے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور نوجوان اندازے لگا رہے تھے کہ کھانے میں کیا کیا ہوگا۔

مگر کسی کو خبر نہ تھی کہ یہ ضیافت صرف کھانے کی دعوت نہیں بلکہ ایک ٹوٹتے ہوئے معاشرے کو جوڑنے کی آخری کوشش تھی۔

---

دوسرا باب

دسترخوان اور فاصلے

دعوت کا دن آ پہنچا۔ عصر کے بعد ہی حاجی عبدالوحید کے گھر کے باہر لوگوں کی آمد شروع ہو گئی۔ گلی میں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ بچے نئے کپڑے پہنے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے اور خواتین چھتوں سے مہمانوں کی آمد دیکھ رہی تھیں۔

صحن میں سفید چادریں بچھائی گئی تھیں۔ بڑے بڑے دیگچوں سے بریانی اور قورمے کی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ باورچی مسلسل مصروف تھے۔ ایک طرف شربت کے گلاس سجائے جا رہے تھے اور دوسری طرف مٹھائی کی ٹرے رکھی جا رہی تھیں۔

مگر اس رونق کے درمیان ایک عجیب سی خاموشی بھی تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے مسکرا کر مل تو رہے تھے مگر دلوں میں فاصلے موجود تھے۔

محلے کے دو بھائی، جن کے درمیان کئی سالوں سے جائیداد کا جھگڑا چل رہا تھا، ایک ہی صف میں بیٹھے تھے مگر ایک دوسرے کی طرف دیکھ بھی نہیں رہے تھے۔ ایک کونے میں چند نوجوان سیاست پر بحث کر رہے تھے اور دوسرے کونے میں چند بزرگ پرانے زمانے کی محبتوں کو یاد کر رہے تھے۔

حاجی صاحب ہر آنے والے کو خود خوش آمدید کہتے۔ “آئیے، آپ کے آنے سے گھر روشن ہو گیا!”

ان کے لہجے میں ایسی اپنائیت تھی کہ کئی لوگ شرمندہ ہو جاتے۔

اسی دوران ایک دبلا پتلا شخص دروازے پر رکا۔ اُس کے کپڑے معمولی تھے اور چہرے پر جھجک نمایاں تھی۔ وہ یوسف تھا، جو کبھی حاجی صاحب کا قریبی دوست ہوا کرتا تھا، مگر کاروباری اختلافات نے دونوں کو برسوں دور رکھا۔

سلیم نے آہستہ سے کہا: “ابو… یوسف چچا بھی آئے ہیں۔”

چند لمحوں کے لیے فضا جیسے تھم گئی۔

مگر حاجی عبدالوحید فوراً آگے بڑھے اور یوسف کو گلے لگا لیا۔ “بہت دیر کر دی آنے میں دوست!”

یوسف کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ “غلطی میری تھی… مگر ہمت نہیں ہوتی تھی۔”

حاجی صاحب نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ “آج سب حساب ختم۔ آج صرف ضیافت ہے… دلوں کی ضیافت۔”

یہ منظر دیکھ کر کئی لوگوں کے چہرے بدل گئے۔ شاید انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ دسترخوان صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں بچھایا جاتا، بعض اوقات یہ دلوں کے زخم بھرنے کے لیے بھی بچھتا ہے۔

اسی لمحے فرحان نے موبائل نکالا تاکہ اس جذباتی منظر کی ویڈیو بنا سکے، مگر پھر اسے ابو کی بات یاد آ گئی۔ اُس نے خاموشی سے موبائل واپس جیب میں رکھ دیا۔

رات بڑھتی گئی۔ لوگ کھاتے رہے، ہنستے رہے، باتیں کرتے رہے۔ اور آہستہ آہستہ وہ فاصلے، جو برسوں میں پیدا ہوئے تھے، جیسے گھلنے لگے۔

حاجی عبدالوحید صحن کے ایک کونے میں کھڑے سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں اطمینان تھا۔ شاید یہی وہ ضیافت تھی جس کا خواب وہ مدت سے دیکھ رہے تھے۔

---

تیسرا باب

آخری مہمان

رات تقریباً ختم ہونے کو تھی۔ زیادہ تر مہمان جا چکے تھے۔ صحن میں بچی ہوئی پلیٹیں سمیٹی جا رہی تھیں اور باورچی تھکے ہوئے انداز میں دیگچے بند کر رہے تھے۔

حاجی عبدالوحید کرسی پر بیٹھے خاموشی سے خالی ہوتے ہوئے صحن کو دیکھ رہے تھے۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔

سلیم نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک بوڑھا فقیر کھڑا تھا۔ اُس کے کپڑے بوسیدہ تھے اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔

“بیٹا… سنا تھا یہاں ضیافت ہے۔ کیا میرے لیے بھی کچھ بچا ہے؟”

سلیم کچھ کہنے ہی والا تھا کہ پیچھے سے حاجی صاحب کی آواز آئی: “ہاں بابا! اصل مہمان تو آپ ہیں۔”

وہ خود اٹھ کر فقیر کو اندر لائے، اُس کے ہاتھ دھلوائے اور اپنے برابر بٹھا کر کھانا پیش کیا۔

فقیر خاموشی سے کھاتا رہا۔ اُس کی آنکھوں میں عجیب سی نمی تھی۔

کھانے کے بعد اُس نے دعا دیتے ہوئے کہا: “اللہ تمہارے گھر کی برکت قائم رکھے۔ تم نے آج صرف مجھے نہیں، انسانیت کو کھلایا ہے۔”

یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔

کچھ دیر بعد حاجی صاحب نے آسمان کی طرف دیکھا۔ صحن میں خاموشی تھی، مگر ان کے دل میں سکون اتر چکا تھا۔

انہوں نے آہستہ سے کہا: “ضیافت کا اصل ذائقہ کھانے میں نہیں… محبت میں ہوتا ہے۔”

اور شاید یہی اس کہانی کا سب سے بڑا سچ تھا۔

میں نے “ضیافت” کے عنوان پر ایک ادبی و سماجی ناول لکھنا شروع کر دیا ہے، جس میں مہمان نوازی، بدلتے معاشرتی تعلقات، اخلاص، دکھاوے اور انسانی رشتوں کی گہرائی کو پیش کیا گیا ہے۔

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
## کربلا — دسویں دن 10 محرم 1448ھ جب صبح صرف روشنی نہیں لاتی، تاریخ کا ایک با...
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
نشہ — انسانیت کا زوال | نشے کے سماجی، نفسیاتی اور انسانی اثرات پر طویل تحقیقی اردو مضمون
## نشہ — انسانیت کا زوال ### باب اوّل جب انسان اپنے آپ سے دور ہونے لگتا ہے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن