اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 8 ❤️ 2
باقی ترے فراق کا نشّہ نہیں رہا
” اب سردیوں کا چاند بھی تنہا نہیں رہا“
ایثار اور وفا کے جہاں پھول کھلتے ہوں
ایسا تمہارے شہر کا رستہ نہیں رہا
احساس مفلسی کا ذرا اس سے پوچھیے
ترکے میں جس غریب کا حصہ نہیں رہا
تم بھی شریکِ جرم ہو ان ظالموں کے ساتھ
گر ظالموں سے تم میں تبرّا نہیں رہا
اس دورِ آنلائن نے ایسا کیا غریب
سیٹھوں کی بھی قمیض میں پیسہ نہیں رہا
بچپن کو کھا گیا ہے یہ دورِ جدیدیت
بچہ بھی دورِ عصر میں بچہ نہیں رہا
مانا کہ تم نے کھُل کے نبھائی ہے دشمنی
لیکن سلوک دشمنوں جیسا نہیں رہا
راہِ وفا میں ساتھ نہ چھوڑوں گا اب کبھی
ہاشمؔ کو تیری ذات سے شکوہ نہیں رہا
← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن