اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 13 ❤️ 2
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں
"اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں"
ایسا کوئی نہیں ہے محفل میں
جس کو ہم اپنا انتخاب لکھیں
اپنی قسمت میں اپنے ہاتھوں سے
زیست کی تجھ کو آب و تاب لکھیں
آپ نے لکّھی جھیل سی آنکھیں
اب مٹا کر اسے شراب لکھیں
زخم فرقت وصال کے قصے
اس قدر ہیں کہ ہم کتاب لکھیں
کاش خط اس کا کوئی آئے پھر
کاش ہم خط کا پھر جواب لکھیں
آؤ ہاشمٓ سجی ہے بزمِ غزل
سنگ دل کو حیاتِ آب لکھیں
آو ہاشم اسی بہانے سے
اپنے شعروں کا احتساب لکھیں
← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن