غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 10
❤️ 2
گھر کی دیوار و باب کی تاثیر
اپنے بچوں کے خواب کی تاثیر
ان کی آنکھوں میں وہ نشہ ہے کہ
بھول بیٹھا شراب کی تاثیر
دنگ ہیں دشمنانِ دیں سارے
دیکھ کر انقلاب کی تاثیر
بیٹیوں یہ تمہارے فون کہیں
چھین لیں نا حجاب کی تاثیر
یہ نیا دور نوجوانوں میں
ماند پڑتی شباب کی تاثیر؟؟؟؟
بھائی بھائی میں دشمنی بولے
باقی ہے انتخاب کی تاثیر
نکلے ہیں ہم جو روشنی لے کر
اُس میں ہے آفتاب کی تاثیر
خشک صحرا میں تو جو ڈوب گیا
ہے یہ ہاشم سراب کی تاثیر
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!