اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کہانی

احساس کا چِپ

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 19 ❤️ 1

سال 2250ء۔
انسان ترقی کر چکا تھا، اتنا کہ اب دکھ، خوشی، محبت، خفگی — سب جذبات ایک "احساساتی چِپ (Emotion Chip)" کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے تھے۔
یہ چِپ دل کے نیچے لگایا جاتا، اور انسان جب چاہتا، اپنے جذبات کا سوئچ آن یا آف کر سکتا تھا۔
نہ دل ٹوٹتے تھے
نہ کسی کو جدائی کا دکھ ہوتا تھا
نہ کوئی تنہائی سے مرتا تھا
بس… سب "نارمل" زندگی جیتے تھے۔
کہانی کی ہیروئن:
آراوی، ایک جوان، ذہین اور خاموش لڑکی تھی۔ وہ سائنسی تجربات میں ماہر تھی، لیکن کبھی ہنستی نہیں تھی۔
جب اس سے پوچھا گیا:
“تم کیوں نہیں ہنستی؟ تمہارے پاس تو سب کچھ ہے؟”
اس نے صرف اتنا کہا:
“چِپ مجھے خوش رکھتی ہے — لیکن میں خوشی محسوس نہیں کر سکتی۔”
ایک معمولی سی خرابی:
ایک دن اس کی چِپ میں معمولی خرابی آئی۔
آراوی کو اچانک ایک پرانی لائبریری میں بیٹھ کر ایک نظم پڑھنے کی خواہش ہوئی:
"کبھی کسی لمحے نے مجھے چھوا تھا
کبھی کسی خواب نے مجھے جگایا تھا…"
وہ نظم پڑھتے ہی وہ رو پڑی — پہلی بار زندگی میں۔
آنکھوں سے آنسو نکلے، دل دھڑکا، اور سانس میں کوئی عجیب سی ہلچل ہوئی۔
وہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔
ڈاکٹر نے کہا:
“تمہاری چِپ خراب ہو چکی ہے — ہم اسے نیا لگا دیتے ہیں، جذبات ختم ہو جائیں گے۔”
آراوی نے پہلی بار انکار کیا۔
“نہیں، میں درد میں جینا چاہتی ہوں،
کیونکہ درد کے بغیر محبت ادھوری ہے،
اور محبت کے بغیر انسان مشین ہوتا ہے۔”
انقلاب:
آراوی نے “چِپ فری احساس” کے نام سے ایک مہم شروع کی۔
لوگ پہلے ڈرے، پھر سوچنے لگے…
پھر ایک ایک کر کے اپنی چِپ ہٹانے لگے۔
یہ نیا دور شروع ہوا،
جہاں لوگ ہنستے بھی تھے، روتے بھی تھے،
محسوس کرتے تھے — جیتے تھے!
سبق:
مصنوعی ذہانت احساس کی نقل تو کر سکتی ہے،
مگر اصل احساس صرف وہی سمجھ سکتا ہے
جو درد سے گزرے — اور پیار میں جئے۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
مریخ کا اسکول
سال 2200ء۔ زمین پر ماحولیاتی تباہی، جنگوں اور آلودگی کے باعث انسانوں کی اکثریت ا...
یادداشتوں کا بازار
سال 2450ء۔ دنیا کے بڑے شہروں میں اب ایک نیا بازار قائم ہو چکا تھا — جسے کہتے تھے...
چاندنی جنگل اور ننھی پری کی جادوئی مہم
ایک سرسبز وادی میں ایک چھوٹا سا خوبصورت گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے اردگرد اونچے پہاڑ...
آئینے کا جنگل
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک عجیب و غریب درخت اگ آیا۔ اس...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن