اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 69 ❤️ 3
گر خاک کا پیکر ہے بکھر کیوں نہیں جاتا
دریا سا سمندر میں اتر کیوں نہیں جاتا
اعمال میں گر تیرے بسی تشنہ لبی ہے
تَو نفس کے صحرا سے گزر کیوں نہیں جاتا
ہر نفس کے حصے میں اگر موت رکھی ہے
مر جائے' گا اس خوف سے مر، کیوں نہیں جاتا
وہ تجھ کو ستاتے ہیں تو غمگین ہے کیوں کر
تو صبر کے دریا میں اتر کیوں نہیں جاتا
کس بات پر اپنوں سے بنا رکھی ہے دوری
تُو، صبح کا بھولا ہے تَو گھر کیوں نہیں جاتا
کچھ ساتھ میں رہ کر بھی اتر جاتے ہیں دل سے
"جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا“
ہاشمؔ وہ بھٹکتا ہے کیوں اوروں کی ڈگر پر
رب پوچھ رہا ہے تو اُدھر کیوں نہیں جاتا
← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن