غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 8 مئی 2026
👁 32
❤️ 4
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر کی بجھانی پیاس ہوتی ہے
وہ جن کے بخت میں سوکھے ہوئے تالاب ہوتے ہیں
بتائیں گے وہی کس کس نے خون اپنا پلایا ہے
خزاں کے پُرحزیں موسم میں جو شاداب ہوتے ہیں
یہ تہذیبوں تمدّن کی نشانی ہے یہ عیاری
جہاں پر، پر، نہیں ملتے وہیں سرخاب ہوتے ہیں
یہ مالیگاؤں زندہ دل ادیبوں کا ہے گہوارہ
یہاں شہرِ خموشاں کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں
اسی نے دی ہے دستک آج دروازے پہ اس دل کے
وہ جس کے واسطے ہاشم چمن بیتاب ہوتے ہیں
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!