افسانچہ
جڑیں
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 16
❤️ 0
شہر جا کر وہ بڑا آدمی بن گیا تھا۔
اب اُسے اپنا گاؤں چھوٹا لگتا تھا۔
ایک دن وہ اپنے بچپن کے درخت کے پاس کھڑا تھا۔
بوڑھے مالی نے کہا:
"درخت جتنا اونچا ہوتا ہے
جڑیں اتنی گہری رکھتا ہے۔"
وہ دیر تک خاموش رہا۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
تلاش
وہ ساری دنیا میں خوشی تلاش کرتا رہا۔ مہنگی گاڑیاں، بڑے ہوٹل، لمبے سفر… ایک دن تھ...
کھلونا
امیر بچے نے نیا کھلونا دو منٹ کھیل کر پھینک دیا۔ نوکر کا بیٹا خاموشی سے اُسے دیک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
کتاب
وہ پرانی کتابیں بیچ رہا تھا۔ ایک لڑکے نے پوچھا: "اتنی پسندیدہ کتابیں کیوں ب...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!