نوحہ
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 8 مئی 2026
👁 82
❤️ 3
چاند تارے نوحہ خواں دیکھے نجف تا کربلا
ہم نے اپنے درمیاں دیکھے نجف تا کربلا
جانے کتنے آسماں دیکھے نجف تا کربلا
”اربعیں پر کارواں دیکھے نجف تا کربلا“
شہِؑ کے مہماں کے لیے اپنی لٹا دے زندگی
ایسے ایسے میزباں دیکھے نجف تا کربلا
زائرِ شبیرؑ کو ہر جا پذیرائی ملی
مستقل یہ آسماں دیکھے نجف تا کربلا
زائرِ شبیرؑ کی آنکھوں نے یہ بڑھ کر کہا
عہدِ مولاؑ کے نشاں دیکھے نجف تا کربلا
خدمتِ زوار اور رب کی عبادت میں لگے
ہر طرف پیر و جواں دیکھے نجف تا کربلا
باپ بیٹے بیٹیاں مائیں بہنوں کو لیے
”اربعیں پر کارواں دیکھے نجف تا کربلا“
بے وطن کی یاد میں اپنے وطن کو چھوڑ کر
عشق میں سب شادماں دیکھے نجف تا کربلا
ہے سفر یہ عشق کا اس میں ہمارے ساتھ ساتھ
قدسیاں اہلِ جناں دیکھے نجف تا کربلا
خون سے تر جسم آنکھوں میں مودت کی چمک
اربعیں پر کارواں دیکھے نجف تا کربلا
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!