غزل
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
منگل، 21 اپریل 2026
👁 11
❤️ 1
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
تکلف بر طرف ہے جاں ستاں تر لطف بد خویاں
نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
ہوئی یہ کثرت غم سے تلف کیفیت شادی
کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے
کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
چراغ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے
تکلف ساز رسوائی ہے غافل شرم رعنائی
دل خوں گشتہ در دست حنا آلودہ عریاں ہے
UNPUBLISHED
اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تر
دو عالم آگہی سامان یک خواب پریشاں ہے
کہ جامے کو عرق سعی عروج نشہ رنگیں تر
خط رخسار ساقی تا خط ساغر چراغاں ہے
رہا بے قدر دل در پردۂ جوش ظہور آخر
گل و نرگس بہم آئینہ و اقلیم کوراں ہے
تماشا سرخوش غفلت ہے با وصف حضور دل
ہنوز آئینہ خلوت گاہ ناز ربط مژگاں ہے
تکلف بر طرف ذوق زلیخا جمع کر ورنہ
پریشاں خواب آغوش وداع یوسف ستاں ہے
✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — مختصر تعارف
📍 آگرہ، ہندوستان
مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ کی مزید
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
تکلف بر طرف ہے جاں ست...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
کہتے ہیں جب رہی نہ مج...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا
اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا
پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
غالبؔ م...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!