اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
آؤ مل کر عہد یہ دہرائیں
اپنی دھرتی کو سبز بنائیں

نیلا امبر، روشن تارے
ہم کو لگتے کتنے پیارے

صاف ہوا کا حق ہے سب کا
تحفہ ہے یہ اپنے رب کا

پیڑ لگاؤ، پھول کھلاؤ
خوشبو سے دنیا مہکاؤ

پیڑ ہمیں آکسیجن دیتے
دھوپ سے ہر دم یہی بچاتے

جب جنگل کم ہوتے جاتے
بادل بھی پھر پیٹھ دکھاتے

سوکھے کھیت اور پیاسی ندیا
دکھ میں ڈوبے گا من بھیا

دھواں فضا میں زہر گھلاتا
سانسوں کا دشمن بن جاتا

شور مچاتے یہ کارخانے
صوتی بیماری پھیلاتے

پانی کی ہر بوند بچاؤ
سب کو اس کی قدر جتاؤ

ندیا، جھرنے، تال سنبھالو
قدرت کے تحفے مت ٹالو

پنچھی، پھول، نظارے سارے
ان سے ہیں یہ رنگ ہمارے

اگر زمیں کو خوش رکھنا ہے
سبزہ ہر سو پھر کرنا ہے

آؤ مل کر کام یہ کر لیں
مستقبل کی جھولی بھر لیں

ہر آنگن میں ایک شجر ہو
پیار، امن اور سبز سفر ہو

سب اپنا ماحول سجائیں
سرسبز و شاداب بنائیں
شاعر: علیم طاہرؔ
❤️ 0 پسند ← واپس
👁 23 بار پڑھی 📅 07 Jun 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
علیم طاہر نے اس نظم میں ماحول کے مختلف پہلوؤں کو نہایت آسان اور دلنشین انداز میں پیش کیا ہے۔ شاعر سب سے پہلے لوگوں کو عہد کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ وہ زمین کو سبز و شاداب بنائیں گے۔ اس کے بعد آسمان، ستاروں، ہوا، درختوں، پھولوں اور قدرتی مناظر کی خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے ماحول کی اہمیت واضح کرتا ہے۔
شاعر درختوں کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور سورج کی تیز دھوپ سے بچاتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں بارشوں کی کمی، کھیتوں کی خشکی اور دریاؤں کے سوکھنے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ نظم میں دھوئیں اور شور کی آلودگی کے مضر اثرات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔
نظم کے آخری حصے میں شاعر ہر فرد کو ماحول دوست رویہ اپنانے، پانی بچانے اور درخت لگانے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ دنیا مزید خوبصورت، خوشحال اور صحت مند بن سکے۔
📝 الفاظ کے معنی
عہد : وعدہ، پختہ ارادہ
دھرتی : زمین
امبر : آسمان
آکسیجن : زندگی کے لیے ضروری گیس
پیٹھ دکھانا : منہ موڑ لینا، دور ہو جانا
ندیا : دریا، ندی
فضا : ماحول، ہوا
زہر گھلانا : آلودہ کرنا، نقصان دہ بنانا
صوتی آلودگی : شور و غل سے پیدا ہونے والی آلودگی
بوند : قطرہ
جھرنے : پہاڑوں سے بہنے والے پانی کے چشمے
تال : تالاب
نظارے : قدرتی مناظر
سرسبز : ہرا بھرا
شاداب : تروتازہ، خوشحال
شجر : درخت
مستقبل : آنے والا وقت
🏛️ پس منظر
"ماحول کی پکار" معروف شاعر علیم طاہر کی ایک اصلاحی اور سبق آموز نظم ہے۔ موجودہ دور میں ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ اسی تناظر میں شاعر نے اس نظم کے ذریعے عوام خصوصاً بچوں اور نوجوانوں میں ماحول دوست شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔
نظم میں درختوں کی اہمیت، صاف ہوا کی ضرورت، پانی کے تحفظ اور آلودگی کے نقصانات کو نہایت آسان اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر انسانوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ قدرتی وسائل کی حفاظت کریں، زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔
یہ نظم نہ صرف ماحولیات کے تحفظ کا پیغام دیتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر، صحت مند اور سرسبز دنیا کی تعمیر کی بھی دعوت دیتی ہے۔ نظم کا انداز سادہ، دلنشین اور تعلیمی ہے، جس کی وجہ سے یہ طلبہ کے لیے خاص طور پر مفید اور دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔
💡 مرکزی خیال
وطن سے محبت اور اتحاد کا عہد — مل کر اپنی دھرتی کو سرسبز اور خوشحال بنانے کا عزم۔
✨ ادبی خصوصیات
حکمیہ اسلوب: مل کر عہد کرنے کی ترغیب ہے۔ قومی جذبہ: حب الوطنی کا پیغام ہے۔
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن