کوکھ
اندھیرے کی کوکھ نے
جنما ہے
ان گنت مہیب خیالوں کو
کتنے مبہم جوابوں کو
کتنے مشکل سوالوں کو
کہ
اس تاریکی نے
روح کے اندر رہنے کا
فیصلہ کر رکھا تھا
رگوں کے خون
اور
آنکھوں کے اشک میں
فاصلہ کر رکھا تھا
کتنا بوجھل تھا
اتنے سمے تک
دکھوں کو سنبھالے رکھنا
اپنی روح کی کوکھ میں
خاموشی کو پالے رکھنا
اور اب
اگل ڈالا ہے اچانک
اک اک زخم کو
کرچی کرچی وجود کے
ہر پیچ و خم کو
جگر سے رستے لہو کو
۔۔۔۔۔اشک نم کو
ازل سے
روحوں کا مسافر ہے
کسی اجڑے وجود کا
معاصر ہے
ڈھونڈتا ہے
دلفریب لمحوں کو
کسی
پر شکوہ پلوں کو
جنم دیتا ہے پھر
چپکے چپکے
ان اشکالوں کو
ان جوابوں کو
جو بھسم کردیتا ہے
ہر خوشی
سب اجالوں کو
کیونکہ
اندھیرے کی کوکھ نے
جنما ہے سدا
ان گنت مہیب
خیالوں کو
یہ نظم انسانی باطن میں چھپے اندھیرے، کرب اور پیچیدہ نفسیاتی کیفیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے “اندھیرے کی کوکھ” کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا ہے، جو ان خوفناک خیالات، الجھے سوالات اور مبہم جوابوں…
✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف
ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …
مزید پڑھیں ←



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!