اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نثری نظم

کوکھ

کوکھ
ارم رحمٰن
ارم رحمٰن پیر، 25 مئی 2026
👁 18 ❤️ 0

اندھیرے کی کوکھ نے
جنما ہے
ان گنت مہیب خیالوں کو
کتنے مبہم جوابوں کو
کتنے مشکل سوالوں کو
کہ
اس تاریکی نے
روح کے اندر رہنے کا
فیصلہ کر رکھا تھا
رگوں کے خون
اور
آنکھوں کے اشک میں
فاصلہ کر رکھا تھا
کتنا بوجھل تھا
اتنے سمے تک
دکھوں کو سنبھالے رکھنا
اپنی روح کی کوکھ میں
خاموشی کو پالے رکھنا
اور اب
اگل ڈالا ہے اچانک
اک اک زخم کو
کرچی کرچی وجود کے
ہر پیچ و خم کو
جگر سے رستے لہو کو
۔۔۔۔۔اشک نم کو
ازل سے
روحوں کا مسافر ہے
کسی اجڑے وجود کا
معاصر ہے
ڈھونڈتا ہے
دلفریب لمحوں کو
کسی
پر شکوہ پلوں کو
جنم دیتا ہے پھر
چپکے چپکے
ان اشکالوں کو
ان جوابوں کو
جو بھسم کردیتا ہے
ہر خوشی
سب اجالوں کو
کیونکہ
اندھیرے کی کوکھ نے
جنما ہے سدا
ان گنت مہیب
خیالوں کو

📖 خلاصہ

یہ نظم انسانی باطن میں چھپے اندھیرے، کرب اور پیچیدہ نفسیاتی کیفیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے “اندھیرے کی کوکھ” کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا ہے، جو ان خوفناک خیالات، الجھے سوالات اور مبہم جوابوں…

✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف

ارم رحمٰن
📍 لاہور، پاکستان

ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …

مزید پڑھیں ←
ارم رحمٰن کی مزید تحریریں
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خراما...
مزید متعلقہ نثر
جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے، جنون قتل کر کے افسوس کرتا، جنون ہی رموزِ قلب سے ...
میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی میرے آنسوؤں کے قلم سے میری روح سنگ مرمر کی مانند سرد ا...
میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا
میں مسافر، ہوں محبت، کے خیاباں، کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل، ہوئی معر...
لطیفہ
لطیفہ ہی تو ہے یہ زندگی ہاں دیکھو تو ایک لطیف سا احساس سوچو تو محض مرنے پر قیاس ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن