اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
علیم طاہر اتوار، 17 مئی 2026
👁 106 ❤️ 3
مجھ کو سمجھنا ہے تو مرے در تلک تو آ
دل میرا قلندر ہے، قلندر تلک تو آ
صبر و سکون کیوں نہ ملا، جان جائے گا
میرے غموں کے چیختے منظر تلک تو آ
خوابوں کو مرے چھونا بہت دور کی ہے بات
پہلے مرے کمرے میں تو بستر تلک تو آ
جرأت تو کر، آنکھوں میں کسی روز جھانک لے
یعنی کبھی خاموش سمندر تلک تو آ
در در نہ بھٹک، تو ہے "مونث" تو سن ذرا
ٹھہراؤ چاہیے تو "مذکر" تلک تو آ
کیا ریشمی ماحول میں رہ کر کرے غرور
اے شیشہ بدن، آ کبھی پتھر تلک تو آ
کیوں اپنی بدنصیبی کا پیٹے ہے ڈھنڈورا
خواہش ہے محبت کی تو دلبر تلک تو آ
باہر کھڑا دروازے پہ کیا دیتا ہے دستک
کیواڑ کھلا رکھا ہے، اندر تلک تو آ
📖 خلاصہ

یہ فکری، علامتی اور جذباتی گہرائی سے بھرپور غزل علیم طاہر کی منفرد طرزِ اظہار اور پختہ شعری شعور کا خوبصورت نمونہ ہے۔ شاعر نے اس غزل میں انسان کے باطن، درد، محبت، خود شناسی اور تعلقات کی حقیقت کو نہای…

← پچھلا اگلا →

✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد دھڑکن‌دھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر کردار: بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ) سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ تحریر (رائٹر) : علیم طاہر کردار: رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن