اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
احمد نعیم جمعرات، 30 اپریل 2026
👁 31 ❤️ 2
نظم
مجھے ایک گالی ایجاد کرنی ہے
🎬احمد نعیم🎬 (موت ڈاٹ کام مالیگاوں بھارت
مجھے ایک گالی ایجاد کرنی ہے
جس میں کسی انسان کے
کسی صنف کے
کسی اعضاء کی ہتک نہ ہو
ایک ایسی گالی میں ایجاد کرنا چاہتا ہوں
جس میں نہ نفرت ہو
نہ کراہت کا احساس ہو
اور نہ دکھ ہو
کیا صدیوں سے چلی آرہی گالی کی ابجد کو تبدیل کرسکتے ہیں؟؟؟؟؟
مجھے ایجاد کرنی ہے ایک بےحد گندی گالی
جیسے زبان سے ادا کرتے ہوئے
کسی بھی اعضا کی ہتک نا ہو
میں ابھی لفظوں کے ارتقاء کے سفر میں ہوں
← پچھلا اگلا →
احمد نعیم کی مزید
ہرکویتا کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے جیسے تمہاری پالتو بلی تمہاری گود کا لمس لیتی ہے ویسے ہی ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (1)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
مغان مالیگانوی جمعہ، 1 مئی 2026
مجھے ایک گالی ایجاد کرنی ہے — نظم، تشریح، تبصرہ اور پیغام ✨ تعارف یہ نظم جدید فکری اور سماجی شعور کی ایک عمدہ مثال ہے، جس میں شاعر نے زبان کے ایک ایسے پہلو کو موضوع بنایا ہے جس پر عموماً سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا۔ “گالی” جیسے منفی لفظ کو شاعر نے ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے اور اسے اخلاقی و فکری سطح پر چیلنج کیا ہے۔ 📝 نظم کا تفصیلی تبصرہ یہ نظم دراصل ایک سماجی اور لسانی احتجاج ہے۔ شاعر نے “گالی” جیسے لفظ کو بطور علامت استعمال کیا ہے، جو عام طور پر نفرت، تذلیل اور دکھ کا ذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں شاعر ایک سوال اٹھاتا ہے: 👉 کیا ہم زبان کو اس حد تک مہذب بنا سکتے ہیں کہ گالی بھی کسی کی توہین نہ کرے؟ یہ سوال نہ صرف زبان بلکہ پورے معاشرے کی سوچ پر تنقید کرتا ہے۔ شاعر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ: - ہم کیوں گالی کو توہین کے ساتھ جوڑتے ہیں؟ - کیا زبان کا استعمال بدل نہیں سکتا؟ 📖 نظم کی تشریح “مجھے ایک گالی ایجاد کرنی ہے...” یہ مصرع شاعر کی ایک نئی جستجو کو ظاہر کرتا ہے — وہ روایت سے ہٹ کر کچھ نیا تخلیق کرنا چاہتا ہے۔ “جس میں کسی انسان کے... کسی صنف کے... کسی اعضاء کی ہتک نہ ہو” یہاں شاعر واضح کرتا ہے کہ وہ ایسی زبان چاہتا ہے جس میں کسی بھی انسان یا صنف کی توہین نہ ہو۔ ✔️ مطلب: زبان کو احترام اور مساوات کا ذریعہ ہونا چاہیے “جس میں نہ نفرت ہو... نہ کراہت... نہ دکھ” یہ ایک مثالی گالی کی تعریف ہے جو حقیقت میں گالی کے تصور کو ہی بدل دیتی ہے۔ ✔️ مطلب: شاعر نفرت کے بجائے مثبت زبان کا خواہاں ہے “کیا صدیوں سے چلی آرہی گالی کی ابجد کو تبدیل کرسکتے ہیں؟” یہ نظم کا سب سے اہم سوال ہے ✔️ مطلب: کیا ہم اپنی پرانی عادتوں اور زبان کو بدل سکتے ہیں؟ “میں ابھی لفظوں کے ارتقاء کے سفر میں ہوں” یہ مصرع شاعر کے تخلیقی سفر کو ظاہر کرتا ہے ✔️ مطلب: زبان ایک زندہ چیز ہے جو وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے 💡 نظم کا مرکزی پیغام یہ نظم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ: - زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار کی عکاسی بھی ہے - ہمیں اپنی بولی میں احترام اور شائستگی پیدا کرنی چاہیے - پرانی روایات کو بدلنا ممکن ہے اگر ہم سوچ بدلیں - الفاظ کا انتخاب معاشرے پر گہرا اثر ڈالتا ہے 🌹 ادبی خصوصیات - جدید اور منفرد موضوع - علامتی انداز (گالی بطور استعارہ) - سادہ مگر گہری زبان - فکری اور اصلاحی پہلو 🧾 خلاصہ یہ نظم ایک نئی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے جس میں شاعر نے زبان کے منفی پہلو کو مثبت انداز میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ یہ قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتی ہے بلکہ اپنی زبان اور رویے پر نظر ثانی کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔
ادبی AI معاون
● آن لائن