اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
فیاض سالکؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 14 ❤️ 1
چراغ بن کہ سرِ راہ جلنا پڑتا ہے
مزاج ظلمتِ شب کا بدلنا پڑتا ہے
کبھی حیات گذرتی ہے دامنِ گل میں
برہنہ پا کبھی کانٹوں پہ چلنا پڑتا ہے
َجب آپ ہوتے ہیں اپنی خطا پہ شرمندہ
ہمیں بھی موم کی صورت پگھلنا پڑتا ہے
مثال آپ ہمیں دیجئے نہ سورج کی
کے وقتِ شام اُسےبھی تو ڈھلنا پڑتا ہے
بلندیوں پہ پہنچنے کی جستجو میں کبھی
رہِ حیات میں گِر کر سبھلنا پڑتا ہے
کِسے بتائیں کہ بچّوں کی پرورش کےلیے
سلگتی دھوپ میں گھر سے نکلنا پڑتاہے
نہیں ہےکھیل کوئی شاعری بھی اےسالکؔ
جگر کا خُون قلم سے اُگلنا پڑتا ہے
📖 خلاصہ

یہ فکر انگیز اور حقیقت پسندانہ غزل فیاض سالک کی تخلیق ہے، جس میں زندگی کی جدوجہد، قربانی اور انسان کی داخلی مضبوطی کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر ابتدا میں یہ پیغام دیتا ہے کہ اندھیر…

← پچھلا اگلا →

✍️ فیاض سالکؔ — مختصر تعارف

فیاض سالکؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

فیاض احمد عقیل احمد جن کا قلمی نام فیاض سالک ہے، عصرِ حاضر کے اُن ابھرتے ہوئے شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشاعراتی روایت اور ادبی تربیت کے سائے میں اپنی شعری شناخت قائم کی۔ آپ کی ولادت 01 جون 1984ء کو مالیگاؤں، مہاراشٹر (بھارت) میں ہوئی۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کو ادبی ماحول میسر آیا، کیونکہ آپ اپنے والدِ محترم کے ہمراہ مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ یہی ادبی فضا آپ کے اندر شعری ذوق کی بیداری کا …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

فیاض سالکؔ کی مزید
یادِ احمدﷺمیں بہے جب بھی ہمارے آنسو بن گئے مثلِ قمر سارے کے سارے آنسو چین آئے گا سکوں دل ...
چراغ بن کہ سرِ راہ جلنا پڑتا ہے مزاج ظلمتِ شب کا بدلنا پڑتا ہے کبھی حیات گذرتی ہے دامنِ ...
بستیاں موم کی اور نگر موم کے پتھروں کا جگر ہے بشر موم کے اُن کو سورج پہ تنقید کا حق نہیں جن کے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن