اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
تخیلاتِ حزیں روحِ کائنات چلے
قدم بڑھائے کوئی میرے ساتھ ساتھ چلے

رفاقتوں کی میں کوئی مثال دوں کیسے
قضا کی اوڑھے ردا عمر بھر حیات چلے

جنون دار پہ چڑھ کر مزاجِ خوش ہو تو
قلم کے ساتھ میں قرطاس اور دوات چلے

گزار آئے ہیں صحرا میں خوش خصال حیات
انہی کے ساتھ میں ویران باقیات چلے

کہیں پہ عشق و وفا پیار کی کرنسی تو
کہیں پہ ہجر جفا درد اور نجات چلے

ترے دیار کا انداز ہی نرالا ہے
کسی کی چرب زبانی کسی کا ہاتھ چلے

ہَوا بہار کے موسم سے دور واں لے چل
تمام رات جہاں پر نوازشات چلے
❤️ 1 پسند ← واپس
👁 39 بار پڑھی 📅 01 Jun 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
شعر 1
تخیلاتِ حزیں روحِ کائنات چلے
قدم بڑھائے کوئی میرے ساتھ ساتھ چلے
شاعر کہتا ہے کہ اس کے غمگین خیالات گویا پوری کائنات کی روح کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ وہ خواہش کرتا ہے کہ کوئی ہم خیال اور مخلص ساتھی اس کے ساتھ زندگی کے سفر میں شریک ہو۔
شعر 2
رفاقتوں کی میں کوئی مثال دوں کیسے
قضا کی اوڑھے ردا عمر بھر حیات چلے
شاعر زندگی اور موت کے تعلق کو بیان کرتا ہے۔ زندگی ہمیشہ موت کے سائے میں سفر کرتی ہے، اس لیے رفاقت اور ساتھ نبھانے کی مکمل مثال دینا مشکل ہے۔
شعر 3
جنون دار پہ چڑھ کر مزاجِ خوش ہو تو
قلم کے ساتھ میں قرطاس اور دوات چلے
یہ شعر تخلیقی جنون اور حق گوئی کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر سچ اور عشق کے راستے میں قربانی دینی پڑے تو قلم، کاغذ اور دوات بھی اس سفر میں ساتھ رہنے چاہئیں تاکہ حق اور سچ کو محفوظ رکھا جا سکے۔
شعر 4
گزار آئے ہیں صحرا میں خوش خصال حیات
انہی کے ساتھ میں ویران باقیات چلے
شاعر ان نیک اور بااخلاق لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو زندگی کے دشوار راستوں سے گزر چکے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی یادیں اور آثار بھی باقی رہ جاتے ہیں۔
شعر 5
کہیں پہ عشق و وفا پیار کی کرنسی تو
کہیں پہ ہجر جفا درد اور نجات چلے
دنیا کے مختلف رنگ بیان کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ کہیں محبت اور وفا کی قدر ہے، جبکہ کہیں جدائی، بےوفائی اور درد ہی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
شعر 6
ترے دیار کا انداز ہی نرالا ہے
کسی کی چرب زبانی کسی کا ہاتھ چلے
یہ شعر معاشرتی رویوں پر طنز ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بعض معاشروں میں کامیابی کا دارومدار قابلیت کے بجائے خوشامد یا طاقت پر ہوتا ہے۔
شعر 7
ہَوا بہار کے موسم سے دور واں لے چل
تمام رات جہاں پر نوازشات چلے
مقطع نما اس شعر میں شاعر ایک ایسی دنیا کی آرزو کرتا ہے جہاں محبت، شفقت اور مہربانی کا ماحول ہو اور زندگی سکون و خوشی کے ساتھ بسر ہو۔
📝 الفاظ کے معنی
تخیلات ..... خیالات
حزیں..... غمگین، اداس
روحِ کائنات..... کائنات کی روح، عالمگیر شعور
رفاقت.... ساتھ، دوستی
قضا.... موت
ردا.... چادر
جنون.... دیوانگی، عشق کی شدت
دار.... سولی
قرطاس..... کاغذ
دوات.... روشنائی رکھنے کا برتن
صحرا.... بیابان، ریگستان
باقیات.... باقی رہ جانے والی یادیں یا آثار
ہجر.... جدائی
جفا.... بےوفائی، ظلم
دیار.... وطن، علاقہ
چرب زبانی.... خوشامد، میٹھی باتیں
نوازشات.... مہربانیاں، عنایات
🏛️ پس منظر
یہ غزل کلاسیکی اردو شاعری کی روایت سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جہاں عشق، حیات، قضا، وفا اور تخلیق جیسے موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ شاعر نے اپنے احساسات اور مشاہدات کو استعاراتی زبان میں پیش کیا ہے۔ اس کلام میں صوفیانہ فکر، رومانوی جذبات اور فلسفیانہ اندازِ نظر ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
شاعر زندگی کے سفر کو ایک مسلسل جدوجہد قرار دیتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کو محبت، وفا اور تخلیقی شعور کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
💡 مرکزی خیال
کائنات کی وسعت اور انسانی سوچ کی گہرائی — تخیل کی بلندی پوری کائنات کو محیط ہے۔
✨ ادبی خصوصیات
مبالغہ: تخیلاتِ حزیں روحِ کائنات میں عظیم مبالغہ ہے۔ فلسفیانہ رنگ: کائنات اور انسان کا رشتہ۔

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن