افسانچہ
گلدستہ
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 8
❤️ 1
وہ ہر سال ماں کے یومِ وفات پر قبر پر مہنگے پھول رکھتا تھا۔
لوگ اُس کی محبت کی تعریف کرتے۔
ایک دن قبرستان کے فقیر نے پوچھا:
"بیٹا… ماں زندہ تھیں تب بھی کبھی پھول دیے تھے؟"
وہ خاموش ہوگیا۔
کیونکہ
زندہ ماں کو اُس نے
ہمیشہ صرف دوائیوں کی پرچی دی تھی۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب
### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔
بیٹے نے پوچھا:
"اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔
بیٹے نے کہا:
"اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
کھیت
باپ سارا دن کھیت میں محنت کرتا تھا۔
بیٹا شہر جا کر افسر بن گیا۔
ایک دن لوگوں ن...
چھت
بارش کی رات تھی۔
امیر آدمی اپنی شیشے کی کھڑکی سے موسم کا لطف لے رہا تھا۔
اچانک...
قیمت
وہ سڑک کنارے غبارے بیچ رہا تھا۔
ایک امیر آدمی نے اپنے بچے کیلئے غبارہ لیا اور پ...
آخری نوالہ
گھر میں صرف ایک روٹی بچی تھی۔
ماں نے کہا:
"مجھے بھوک نہیں۔"
باپ بول...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!